یلو لائن کرپشن کیس، سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر کی درخواست ضمانت مسترد
ریکارڈ پر موجود مواد، سی ایم آئی ٹی رپورٹ اور دستاویزی شواہد ملزم کو الزامات سے جوڑنے کے لیے کافی ،عدالتحکومت کی جانب سے جلد کام مکمل کرنے کے دباؤ کا مطلب یہ نہیں کہ قواعد و ضوابط کو نظر انداز کر دیا جائے ،ریمارکس
کراچی (اسٹاف رپورٹر)صوبائی انسدادِ بدعنوانی عدالت نے بی آر ٹی یلو لائن منصوبے میں مبینہ کرپشن کے مقدمے میں سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ریکارڈ پر موجود مواد، سی ایم آئی ٹی رپورٹ اور دستاویزی شواہد بادی النظر میں ملزم کو الزامات سے جوڑنے کے لیے کافی ہیں، جبکہ بدعنوانی اور عوامی فنڈز میں خردبرد جیسے مقدمات میں ضمانت دیتے وقت محتاط رویہ اختیار کرنا ضروری ہے ۔انسدادِ بدعنوانی عدالت میں درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر پیش ہوئے ۔ سماعت کے دوران اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ اگر عدالت ملزم کو ضمانت دیتی ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں، کیونکہ تفتیش جاری ہے ۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر یہی موقف تھا تو پہلے ہی عدالت کو آگاہ کیا جاتا، عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نے ضمانت کی مخالفت نہ کرنے کے لیے متعلقہ مجاز اتھارٹی کی تحریری منظوری بھی پیش نہیں کی۔
سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمہ سیاسی بنیادوں اور بدنیتی پر مبنی ہے ، ضمیر عباسی نے کوئی ذاتی مالی فائدہ حاصل نہیں کیا اور تمام فیصلے سرکاری ذمہ داریوں کی انجام دہی کے دوران کیے گئے ۔ ان کے مطابق منصوبے کی بروقت تکمیل حکومت کی پالیسی تھی، ایڈوانس میٹریل کی خریداری قواعد کے مطابق کی جا سکتی ہے اور سی ایم آئی ٹی کی رپورٹ کسی فوجداری جرم کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔ انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ اینٹی کرپشن نے قانون کے مطابق ابتدائی انکوائری بھی نہیں کی۔ عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ اگر حکومت کی جانب سے جلد کام مکمل کرنے کا دباؤ ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ قواعد و ضوابط کو نظر انداز کر دیا جائے ۔عدالت نے سماعت کے دوران یہ بھی کہا کہ ورلڈ بینک کی فنڈنگ سے چلنے والے منصوبے میں قواعد کی خلاف ورزی ملک کی ساکھ پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے ۔ فیصلے کے مطابق انکوائری رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادائیگیاں نہ صرف معاہدے کی شرائط بلکہ مالیاتی قواعد اور پروکیورمنٹ طریقہ کار کے بھی خلاف کی گئیں، جس سے حکومت کو مالی نقصان اور نجی ٹھیکیداروں کو غیر قانونی فائدہ پہنچا۔