بجلی بلوں میں سیلزٹیکس وصولی کے خلاف درخواستیں مسترد
عدالت عظمیٰ کے طے کردہ موقف سے مختلف رائے اختیار نہیں کرسکتے ،ہائیکورٹبرآمدی صنعتی ادارے زیرو ریٹڈ قرار دیئے جاچکے ہیں، وکیل درخواست گزار
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ نے کراچی ایکسپورٹ پراسیسنگ زون میں صنعتی اداروں کے بجلی کے بلوں میں سیلز ٹیکس کی وصولی کے خلاف دائر چار آئینی درخواستیں مسترد کردیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ اس معاملے پر پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے ، ہائی کورٹ عدالت عظمیٰ کے طے کردہ موقف سے مختلف رائے اختیار نہیں کرسکتی۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ای پی زیڈ اے کی جانب سے کراچی ایکسپورٹ پراسیسنگ زون میں قائم صنعتی اداروں کے بجلی کے بلوں میں سیلز ٹیکس شامل کیا جارہا ہے ، حالانکہ برآمدی صنعتی ادارے زیرو ریٹڈ قرار دیئے جاچکے ہیں، وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ صنعتی ادارے سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ نہیں ہیں جس کی وجہ سے صنعتی اداروں کی جانب سے ادا کیا گیا سیلز ٹیکس واپس لینے کا بھی کوئی موثر طریقہ کار موجود نہیں ہے ، اس لیے بجلی کے بلوں میں سیلز ٹیکس کی وصولی کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔
عدالت نے درخواست گزاروں کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے قرار دیا کہ ای پی زیڈ اے کی جانب سے زیرو ریٹڈ سہولت کا موقف عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ پہلے ہی مسترد کرچکی ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی طے کرچکی ہے کہ کے الیکٹرک کی جانب سے عائد کیا جانے والا سیلز ٹیکس تمام صارفین میں تناسب سے تقسیم کیا جائے گا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں ریمارکس دیے کہ موجودہ بینچ سابقہ عدالتی فیصلے سے مختلف رائے اختیار نہیں کرسکتا۔ سپریم کورٹ اس معاملے پر اپنا فیصلہ دے چکی ہے اور ہائی کورٹ عدالت عظمیٰ سے مختلف موقف اختیار نہیں کرسکتی۔عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے طے کردہ قانونی اصول کی موجودگی میں درخواستوں کے میرٹ پر مزید غور بے مقصد ہوگا۔ عدالت نے کراچی ایکسپورٹ پراسیسنگ زون کے صنعتی اداروں کی جانب سے بجلی کے بلوں میں سیلز ٹیکس کی وصولی کے خلاف دائر چاروں آئینی درخواستیں مسترد کردیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments