کاروبار کے نام پر سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر قبضہ ناقابل قبول ،میئر

کاروبار  کے  نام  پر  سڑکوں  اور  فٹ  پاتھوں  پر  قبضہ  ناقابل  قبول ،میئر

تجاوزات کے خاتمے کیلئے بلدیاتی اور ضلعی انتظامیہ مشترکہ طور پر ہوٹل ایس او پیز پر عملدرآمد کرے گی،مرتضیٰ وہاب تمام تقاضے پورے کرنے والے درخواست گزاروں کو منفرد بارکوڈ پر مشتمل اجازت نامہ جاری کیا جائے گا، اجلاس سے خطاب

کراچی(آئی این پی)میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے چھوٹے ہوٹلوں اور سڑک کنارے قائم کھانے پینے کے کاروبار کے لیے منظور شدہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) پر سختی سے عملدرآمد کا آغاز کرے گی۔ یہ فیصلہ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب اور کمشنر کراچی سید حسن نقوی کی مشترکہ صدارت میں منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر سینٹرل طٰحہ سلیم، ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی سمیت دیگر ڈپٹی کمشنرز نے شرکت کی، جہاں موجودہ ریگولیٹری فریم ورک کا جائزہ لیا گیا اور اس پر موثر عملدرآمد کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے ہمیشہ کاروبار کے فروغ اور عوام کے روزگار کے تحفظ کی حوصلہ افزائی کی ہے ، لیکن کاروبار میں سہولت فراہم کرنے اور تجاوزات کی اجازت دینے میں واضح فرق ہونا چاہیے ۔ عوامی سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر کاروبار کے نام پر قبضہ ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا۔ معاشی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ شہری نظم و ضبط برقرار رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔

میئر کراچی نے بتایا کہ ہوٹل ایسوسی ایشن اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد تیار کیے گئے منظور شدہ ایس او پیز کے تحت سڑک کنارے ہوٹل چلانے کے لیے موصول ہونے والی تمام درخواستوں پر مکمل طور پر ڈیجیٹل اور شفاف نظام کے ذریعے کارروائی کی جائے گی، جس میں شہر کی مختلف سڑکوں کی گنجائش، نوعیت اور رائٹ آف وے کو مدنظر رکھا جائے گا۔ نئے طریقہ کار کے مطابق کاروباری حضرات اپنی درخواستیں آن لائن جمع کرائیں گے ۔ متعلقہ ٹاؤن میونسپل کارپوریشن (ٹی ایم سی) اور متعلقہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر کی جانب سے مشترکہ تصدیقی عمل مکمل ہونے کے بعد اجازت نامے بھی ڈیجیٹل انداز میں جاری کیے جائیں گے ۔ کاروباری سرگرمیوں کے تسلسل اور غیر ضروری تاخیر کے خاتمے کے لیے تمام تقاضے پورے کرنے والے درخواست گزاروں کو منفرد بارکوڈ پر مشتمل اجازت نامہ جاری کیا جائے گا، جو ان کی قانونی حیثیت کا ثبوت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام کے تحت وصول کی جانے والی تمام فیس براہِ راست متعلقہ ٹاؤن میونسپل کارپوریشن کے اکاؤنٹس میں جمع ہوگی۔ یہ فنڈز صرف اور صرف شہر کی ترقی، خوبصورتی، بیوٹیفکیشن منصوبوں اور متعلقہ ٹاؤنز میں بلدیاتی خدمات کی بہتری پر خرچ کیے جائیں گے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...