سکھر:پریا ایکشن کمیٹی کا پرامن تحریک جاری رکھنے کااعلان
تمام بچوں کی بازیابی کی یقین دہانی پرببرلو دھرنا ختم کیا، وعدہ پورا نہیں ہوا، رہنماانتظامیہ نے گرفتار کارکن بھی رہا نہیں کئے ، دہشت گردی مقدمات زیادتی ہیں
سکھر(بیورو رپورٹ)پریا ایکشن کمیٹی نے سندھ کے لاپتہ بچوں کی عدم بازیابی پرپرامن تحریک جاری رکھنے کا اعلان کردیا یہ اعلان پریا ایکشن کمیٹی کی رہنما سہنی پارس، کنوینر لیاقت جلبانی اور دیگر رہنماؤں نے سکھر پریس کلب میں مشترکہ ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران کیا پریس کانفرنس کے دوران رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ ببرلو بائی پاس دھرنے کے خاتمے کے بعد حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے کیے جانے والے وعدے پورے نہیں ہوئے جبکہ احتجاج میں شریک کارکنوں کے خلاف دہشت گردی سمیت سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کئے ہیں جو سراسر ظلم و زیادتی ہے ، پریس کانفرنس کندہ نے بتایا کہ ببرلو بائی پاس پر 27 روزہ دھرنے کے دوران حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ لاپتا بچوں کی بازیابی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے اور دھرنا ختم کرنے کی صورت میں گرفتار کارکنوں کو رہا کر دیا جائے گا۔
تاہم رہائی کے ساتھ یہ شرط بھی عائد کی گئی کہ آئندہ دھرنا یا سڑک بلاک نہیں ہوگی، اور صرف روایتی احتجاج تک محدود رہا جائے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے تین بچیوں کی بازیابی کا دعویٰ کیا گیا، جن میں اسفہ مغل بھی شامل ہے ، جسے خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ سے بازیاب کرانے کا بتایا گیا۔ سہنی پارس کے مطابق انتظامیہ نے بتایا کہ اسفہ مغل نے شادی کر لی ہے اور اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے ، جبکہ اس کے والد کی بھی اس سے ملاقات کرا دی گئی ہے ۔ تاہم انہوں نے اعتراض اٹھایا کہ قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے ، کیونکہ بچی کو متعلقہ عدالت میں پیش کیے بغیر فیصلہ کر لیا گیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments