میرپور خاص:انوشہ مبینہ قتل میں گرفتار بھائی، ماموں عدالت پیش
چاروں ملزم 5 روزہ ریمانڈ پرجیل منتقل، آئندہ سماعت پرپیشرفت رپورٹ طلب
میرپور خاص (بیورو رپورٹ) 18 سالہ انوشہ آرائیں کے مبینہ قتل کیس میں گرفتار دو سگے بھائیوں اور دو ماموؤں کو عدالت میں پیش کر دیا گیا جہاں عدالت نے چاروں ملزمان کو 5 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجتے ہوئے آئندہ سماعت پر تفتیشی افسر سے پیشرفت رپورٹ طلب کر لی۔ سیٹلائٹ ٹاؤن تھانے میں درج مبینہ قتل کے مقدمے میں گرفتار بابر آرائیں اور بلال آرائیں جبکہ دو ماموں رضوان اور عقیل کو تفتیشی افسر انسپکٹر غازی خان راجڑ نے فرسٹ ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں پیش کیا، سماعت کے دوران عدالت نے مقدمے کا ریکارڈ اور تفتیشی افسر کے دلائل سننے کے بعد چاروں ملزمان کو 5 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم جاری کرتے ہوئے یکم اگست کو آئندہ سماعت پر مقدمے کی تفتیشی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
عدالت کے گفتگو کرتے ہوئے تفتیشی افسر نے بتایا کہ عدالت نے ملزمان کو جیل کسٹڈی میں بھیج دیا ہے اور آئندہ سماعت پر کیس کی تفتیش سے متعلق پیشرفت رپورٹ طلب کی ہے ، ان کا کہنا تھا کہ مقدمے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اور دستیاب شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ واضح رہے کہ 15 جولائی کو میرپورخاص کے علاقے العطاء ٹاؤن میں 18 سالہ انوشہ کی پراسرار موت کی اطلاع پولیس کو ملی تھی، ابتدائی طور پر اہل خانہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ لڑکی نے خودکشی کی ہے ، تاہم پوسٹمارٹم رپورٹ اور ابتدائی فرانزک شواہد سامنے آنے کے بعد پولیس نے واقعے کو مشتبہ قرار دیتے ہوئے خودکشی کے دعوے کو مسترد کر دیا اور قتل کا مقدمہ درج کر لیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments