بریسٹ فیڈنگ فیک کا آغاز:ماں کا دودھ نومولود بچوں کی بہترین اور محفوظ غذا قرار

بریسٹ فیڈنگ  فیک  کا  آغاز:ماں  کا  دودھ  نومولود  بچوں  کی  بہترین  اور  محفوظ  غذا  قرار

ماہرینِ صحت کا فارمولا دودھ کے غیر ضروری استعمال سے گریز اور بریسٹ فیڈنگ کے فروغ کے لیے آگاہی بڑھانے پر زور والدین کو چاہیے کہ کم از کم دو سال تک بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کو ترجیح دیں،ڈاکٹر جمال رضا،مشتاق چھاپرا،ڈاکٹر حلیمہ ودیگر

کراچی (این این آئی) ورلڈ بریسٹ فیڈنگ ویک کے آغاز پر کراچی میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں ماہرینِ صحت نے ماں کے دودھ کو نومولود بچوں کے لیے مکمل، محفوظ اور قدرتی غذا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بچوں کو مختلف بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے ، جبکہ فارمولا دودھ کے غیر ضروری استعمال سے حتی الامکان گریز کیا جانا چاہیے ۔عالمی ادارہ یونیسیف کے تعاون سے نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (نیپا) میں منعقدہ تقریب میں سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیونیٹولوجی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جمال رضا، سابق وائس چانسلر ڈاکٹر سعید قریشی، پیشنٹ ایڈ فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مشتاق چھاپرا، جناح اسپتال کے شعبہ امراضِ نسواں کی سربراہ ڈاکٹر حلیمہ، نیفرولوجسٹ ڈاکٹر کھیم چند اور دیگر ماہرینِ صحت، سماجی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر حلیمہ نے کہا کہ فارمولا دودھ استعمال کرنے والے بچوں میں انفیکشن اور دیگر بیماریوں کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ فارمولا دودھ کی تیاری میں آلودہ پانی کا استعمال، بوتلوں کی مناسب صفائی نہ ہونا اور دودھ کو زیادہ دیر تک محفوظ رکھنے جیسی وجوہات بچوں میں اسہال اور دیگر انفیکشنز کا سبب بن سکتی ہیں، جبکہ گرمی کے موسم میں یہ خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ مشتاق چھاپرا نے کہا کہ ماں کا دودھ بچے کو قدرتی طور پر بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے ، اس لیے والدین کو چاہیے کہ کم از کم دو سال تک بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کو ترجیح دیں۔اس موقع پر ڈاکٹر جمال رضا نے بتایا کہ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیونیٹولوجی کے تقریباً 13 مراکز صوبے بھر میں بچوں کی صحت کی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کا مقصد نومولود اور بچوں کی شرح اموات میں کمی لانا، معیاری طبی سہولیات کو مزید اضلاع تک توسیع دینا اور ہر بچے کو اس کے گھر کے قریب مفت اور معیاری علاج کی سہولت فراہم کرنا ہے ۔تقریب کے اختتام پر مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بریسٹ فیڈنگ کے فروغ، ماؤں کی رہنمائی اور بچوں کی بہتر صحت کے لیے آگاہی مہم کو مزید مؤثر اور وسیع پیمانے پر جاری رکھا جائے گا تاکہ صحت مند معاشرے کی بنیاد مضبوط بنائی جا سکے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...