پولیس کو گمشدگی کے مقدمات فوری درج کرنے کا حکم
بازیابی سے متعلق درخواستوں پرمتعلقہ حکام سے عملدرآمد رپورٹ طلبتین لاپتہ شہریوں کی بحفاظت واپسی پر ان کی بازیابی کی درخواستیں نمٹا دیں
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران پولیس کو گمشدگی کے مقدمات فوری طور پر درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ حکام سے عملدرآمد رپورٹ طلب کر لی، جبکہ تین لاپتہ شہریوں کی بحفاظت واپسی پر ان کی بازیابی کی درخواستیں نمٹا دیں۔ سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ میں دس سے زائد لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت عدالت نے لاپتہ شہریوں کی گمشدگی کے مقدمات درج نہ کیے جانے پر پولیس حکام پر برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس سلیم جیسر نے ریمارکس دیے کہ عدالت پہلے ہی حکم دے چکی ہے کہ لاپتہ شہریوں کی گمشدگی کے مقدمات درج کیے جائیں، پھر ان احکامات پر عملدرآمد کیوں نہیں ہو رہا۔ عدالت نے متعلقہ تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ وہ آج ہی اہلخانہ کا بیان ریکارڈ کرکے مقدمہ درج کرے اور عملدرآمد رپورٹ پیش کرے ۔عدالت نے تھانہ سپر مارکیٹ کے تفتیشی افسر سے بھی رپورٹ طلب کر لی۔ اس موقع پر سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے لاپتہ شہری کے اہلخانہ سے رابطہ کیا تھا، تاہم وہ بیماری کے باعث تھانے نہیں آ سکے ۔ اس پر عدالت نے سرکاری وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ زیادہ پڑھے لکھے ہیں یا سچ نہیں بول رہے ؟ اور ہدایت کی کہ عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد کرکے رپورٹ پیش کی جائے ۔ عدالت نے شہری اسد علی اور فراز علی کی گمشدگی کے مقدمات درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے 6 اگست تک پیش رفت رپورٹ طلب کر لی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments