مقابلے میں ملزم کی ہلاکت، تفتیش مقامی پولیس سے واپس لینے کا حکم

مقابلے میں ملزم کی ہلاکت، تفتیش مقامی پولیس سے واپس لینے کا حکم

کیس کی دوبارہ تحقیقات اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ سے کروا کر 14روز میں رپورٹ جمع کرائی جائے ،عدالت کی ہدایت جوڈیشل مجسٹریٹ محض ایک ربڑ اسٹیمپ نہیں ہوتا جو تفتیشی افسر کے غیر فعال نتائج کو قبول کرے ،دوران سماعت ریمارکس

کراچی (اسٹاف رپورٹر)جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے گلشن اقبال میں گھر میں ڈکیتی کے بعد مبینہ پولیس مقابلے میں ملزم مہمیر تنیو کی ہلاکت کے مقدمے میں پولیس کی جانب سے جمع کرایا گیا چالان واپس کرتے ہوئے کیس کی تفتیش مقامی پولیس سے واپس لینے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ایڈیشنل آئی جی کراچی کو ہدایت کی ہے کہ مقدمے کی تفتیش گلشن اقبال پولیس سے واپس لے کر کسی غیرجانبدار ایس ایس پی یا ایس پی رینک کے افسر کے سپرد کی جائے، جبکہ کیس کی دوبارہ تحقیقات اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ سے کروا کر 14 روز میں رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔

عدالت نے تفتیشی افسر کی جانب سے پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے مہمیر تنیو کے خلاف کسی مجرمانہ ریکارڈ کی عدم پیشی پر بھی سوالات اٹھائے ۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ دیگر ملزمان کے خلاف تو کرمنل ریکارڈ موجود ہے ، تاہم ہلاک ملزم مہمیر تنیو کے خلاف کوئی مجرمانہ ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے قرار دیا کہ پولیس کے مؤقف اور مقتول مہمیر تنیو کے کال ڈیٹا ریکارڈ میں تضاد پایا جاتا ہے ، جبکہ کافی وقت گزر جانے کے باوجود تفتیشی افسر علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے میں بھی ناکام رہا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ مقتول کے بھائی کا مؤقف ہے کہ اس کے بھائی کو جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا، اس لیے اس الزام کی غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔

عدالت نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ محض ایک ربڑ اسٹیمپ نہیں ہوتا جو تفتیشی افسر کے غیر فعال نتائج کو قبول کرے ۔ عدالت نے مزید آبزرویشن دی کہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مقامی پولیس اہلکار بدعنوانی اور جعلی پولیس مقابلوں کے الزامات کی زد میں ہیں۔ پولیس کے مطابق گلشن اقبال تھانے میں ملزمان کے خلاف 19 ستمبر 2025 کو مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ ملزمان ایک گھر میں ڈکیتی کے بعد فرار ہو رہے تھے کہ پولیس سے ان کا مقابلہ ہوگیا۔ پولیس کے مطابق مبینہ مقابلے کے دوران ایک ملزم مہمیر تنیو ہلاک جبکہ جمیل شاہ کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا تھا۔عدالت نے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ سے دوبارہ تحقیقات کراکے 14 روز کے اندر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...