خاتون نے مقدمہ جیت لیا، سول اسپتال کو 65 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم

خاتون نے مقدمہ جیت لیا، سول اسپتال کو 65 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم

دورانِ زچگی آپریشن پیٹ میں رہ جانے والے جراحی کپڑے کے نتیجے میں مدعیہ نجمہ رضوان کو انفیکشن اور دیگر طبی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا،اسپتال 60 روز میں ادائیگی کرے ، عدالت کا فیصلہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی کی عدالت نے دورانِ زچگی آپریشن خاتون کے جسم میں جراحی کا کپڑا رہ جانے کے معاملے میں سول اسپتال کراچی کو طبی غفلت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خاتون کے حق میں 65 لاکھ روپے ہرجانے کی ڈگری جاری کردی۔ سینئر سول جج حنا ناز نے فیصلہ سناتے ہوئے سول اسپتال کو حکم دیا کہ وہ مدعیہ نجمہ رضوان کو 60 روز کے اندر 65 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ مدعیہ نے ثابت کیا کہ آپریشن کے دوران پیٹ میں رہ جانے والے جراحی کپڑے کے نتیجے میں اسے انفیکشن اور دیگر طبی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

نجمہ رضوان نے 3 نومبر 2015 کو سول اسپتال میں بچے کی پیدائش کے لیے سیزیرین آپریشن کرایا تھا اور 6 نومبر کو اسپتال سے ڈسچارج ہوئی۔ بعد ازاں پیٹ میں شدید درد اور سوجن سمیت مختلف تکالیف پیدا ہوئیں۔ مارچ 2016 میں سی ٹی اسکین کے دوران پیٹ کے نچلے حصے میں غیر معمولی مواد کی موجودگی سامنے آئی، جس کے بعد نجی اسپتال میں آپریشن کرکے جسم میں موجود جراحی کا کپڑا نکالا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ سول اسپتال کے نمائندے نے دورانِ جرح تسلیم کیا کہ اسپتال نے نجمہ رضوان کا سی ٹی اسکین کیا اور اسے گاز نکالنے کے لیے دوبارہ آپریشن کی پیشکش بھی کی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ مذکورہ کیس میں جسم میں گاز کا رہ جانا طبی غفلت کی واضح علامت ہے ،مدعا علیہان مدعیہ کے موقف کی تردید کے لیے مؤثر ثبوت پیش نہیں کرسکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...