گلی محلوں میں آوارہ کتوں کی بہتات،بچوں،خواتین اور معمر افراد کی زندگیوں کو شدید خطرات
راہ گیروں کے پیچھے دوڑنا اور حملہ کرنا معمول، فجر کی نماز کیلئے مساجد جانے والے شہری بھی خوفزدہ،سگ گزیدگی صحت عامہ کا سنگین مسئلہ بن گئی،شہریوں کا حکام سے حکمت عملی بنانے کامطالبہ
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) گلی محلوں، رہائشی علاقوں اور سڑکوں پر آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے شہریوں کی زندگی اجیرن کردی ۔ مختلف علاقوں میں آوارہ کتوں کے غول دن رات سڑکوں، گلیوں اور خالی پلاٹوں میں گھومتے نظر آتے ہیں جبکہ راہ چلتے افراد کے پیچھے لگنا اور اچانک حملہ کرنا معمول بنتا جارہا ہے ۔ اس صورتحال کے باعث خصوصاً بچوں، خواتین، بزرگوں اور موٹر سائیکل سواروں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ کئی علاقوں میں آوارہ کتوں کی تعداد اس قدر بڑھ چکی ہے کہ گھر سے نکلتے وقت بھی خوف محسوس ہوتا ہے۔ بالخصوص صبح سویرے فجر کی نماز کیلئے مساجد جانے والے افراد کو آوارہ کتوں کے جھنڈ کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ شہریوں کے مطابق متعدد مقامات پر کتے گزرنے والے افراد کے پیچھے دوڑتے ہیں اور بعض اوقات انہیں کاٹنے کی کوشش کرتے ہیں،آوارہ کتوں کا مسئلہ محض خوف یا پریشانی تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک سنگین صحت عامہ کا مسئلہ بھی بن چکا ہے ۔ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں اضافے کے باعث شہریوں کو ویکسین اور علاج کیلئے اسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔ متاثرہ افراد میں بڑی تعداد بچوں کی بھی ہوتی ہے ۔دوسری جانب پولیو مہم کے دوران بھی آوارہ کتوں کی موجودگی فیلڈ میں کام کرنے والے رضاکاروں کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے ۔ شہریوں نے متعلقہ بلدیاتی اداروں اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پانے کے لیے جامع اور مستقل حکمت عملی اختیار کی جائے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments