شہر کی فضا آلودہ،سانس کی بیماریوں میں اضافہ

شہر کی فضا آلودہ،سانس کی بیماریوں میں اضافہ

بارشیں نہ ہونے سے کراچی کا ایئر کوالٹی انڈیکس متاثر ہوا ہے ، اسپتالوں میں سانس کے انفیکشنز کے مریضوں کی تعداد 20 فیصد بڑھ گئی،ماہر امراض تنفس اسپتالوں میں نزلہ، کھانسی والوں کارش،بچے ، بزرگ اورسانس کے مریض احتیاط کریں،گھروں اور دفاتر میں ہوا کی مناسب آمد و رفت یقینی بنائی جائے ،ماہرین

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)شہر قائد میں خراب فضائی معیار کے باعث نزلہ، کھانسی اور سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہونے لگا۔ ماہرین نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔ ٹی وی رپورٹ کے مطابق ماہرِ امراضِ تنفس ڈاکٹر جاوید خان نے کہا ہے کہ بارشیں نہ ہونے اور فضائی آلودگی میں اضافے کے باعث کراچی کا ایئر کوالٹی انڈیکس متاثر ہوا ہے جس کے نتیجے میں سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ شہر کے اسپتالوں میں سانس کے انفیکشنز کے مریضوں کی تعداد میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ خراب فضائی معیار کے باعث خصوصاً دمہ، الرجی، سانس کی نالی کے انفیکشن اور دیگر تنفسی امراض میں مبتلا افراد کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ماہرِ امراضِ تنفس نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ فضائی آلودگی کے دوران غیر ضروری طور پر کھلے مقامات اور ٹریفک کے زیادہ رش والے علاقوں میں جانے سے گریز کریں جبکہ بچے ، بزرگ اور سانس کے پہلے سے موجود امراض میں مبتلا افراد خصوصی احتیاط برتیں ۔ان کا کہنا ہے کہ گھروں، دفاتر اور دیگر بند مقامات پر ہوا کی مناسب آمد و رفت یقینی بنائی جائے جبکہ باہر نکلتے وقت آلودگی کی شدت زیادہ ہونے کی صورت میں احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔ ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی میں کمی کے لیے شہریوں کو بھی ماحول دوست اقدامات اپنانے اور دھوئیں و آلودگی کے ذرائع میں اضافے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ اگر مسلسل کھانسی، سانس لینے میں دشواری، سینے میں جکڑن یا دیگر تنفسی علامات ظاہر ہوں تو خود علاج کے بجائے مستند ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے ۔ماہرین کے مطابق حکومت کو بھی فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے گاڑیوں اور صنعتی یونٹس سے خارج ہونے والے دھوئیں کی نگرانی، کچرے کو جلانے کی روک تھام اور فضائی معیار کی مؤثر مانیٹرنگ کے اقدامات مزید مؤثر بنانا ہوں گے ۔ کراچی میں فضائی آلودگی کو محض ماحولیاتی مسئلہ سمجھنے کے بجائے اسے صحتِ عامہ کے اہم مسئلے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...