انصاف لائرزفورم کا کچرے کے بحران پراظہار تشویش

انصاف لائرزفورم کا کچرے کے بحران پراظہار تشویش

بڑھتے بحران سے شہریوں کی صحت اور ماحول کو سنگین خطرات لاحق فوری اور موثر صفائی کا نظام تشکیل دینا ضروری ،ایڈووکیٹ حسنین چوہان

کراچی (اسٹاف رپورٹر)انصاف لائرز فورم کراچی کے سینئر رہنما ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان نے شہر میں بڑھتے ہوئے کچرے کے بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں روزانہ تقریباً 15 ہزار میٹرک ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے ، جس میں سے صرف 8 ہزار میٹرک ٹن کے قریب کچرا اٹھایا جاتا ہے جبکہ باقی کچرا سڑکوں، گلیوں، محلوں اور نالوں میں جمع رہتا ہے ، کچرے کے بڑھتے بحران سے شہریوں کی صحت اور ماحول کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان نے کہا کہ شہر میں اس وقت 12 لاکھ ٹن سے زائد کچرا جمع ہونا انتظامی ناکامی اور صفائی کے ناقص نظام کی واضح مثال ہے ۔ کچرے کے ڈھیروں سے نہ صرف کراچی کی خوبصورتی متاثر ہورہی ہے بلکہ تعفن، مچھروں، جراثیم اور مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نالوں میں کچرا پھینکے جانے کے باعث نکاسی آب کا نظام شدید متاثر ہوتا ہے ، جس کے نتیجے میں بارشوں کے دوران شہریوں کو اربن فلڈنگ اور دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ کچرے کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر صفائی کا نظام تشکیل دینا ضروری ہے ۔ حسنین علی چوہان کا کہنا تھا کہ دنیا کے کئی ممالک میں کچرے کو بوجھ سمجھنے کے بجائے توانائی کے حصول کے لیے استعمال کیا جارہا ہے ۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں جدید ویسٹ ٹو انرجی منصوبے شروع کرکے روزانہ پیدا ہونے والے ہزاروں ٹن کچرے کو بجلی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت اور متعلقہ بلدیاتی ادارے کراچی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر جامع سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پالیسی تشکیل دیں، کچرے کی بروقت منتقلی اور سائنسی بنیادوں پر تلفی یقینی بنائی جائے اور ویسٹ ٹو انرجی منصوبوں پر فوری کام شروع کیا جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...