خاتون قتل کیس میں سزائے موت عمر قید میں تبدیل
ازدواجی تنازع کا پس منظر دیکھتے ہوئے سزائے موت ضروری نہیں،عدالت ملزم ایک اورشخص کے قتل، اقدام قتل اور زخمی کرنے کے الزامات سے بری
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے جمشید کوارٹرز میں گھریلو تنازع پر خاتون زینب النسا کے قتل کیس میں سزائے موت پانے والے ملزم بخت بلند کی سزا عمر قید میں تبدیل کردی جبکہ محمد ہارون کے قتل، محمد انور کو قتل کرنے کی کوشش اور زخمی کرنے کے الزامات سے بری کردیا۔ جسٹس عمر سیال اور جسٹس شمس الدین عباسی پر مشتمل بینچ نے بخت بلند کی اسلحہ ایکٹ کے تحت سزا برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا کہ زینب النسا کے قتل کا الزام شواہد سے ثابت ہے ، تاہم محمد ہارون کے قتل اور محمد انور کو گولی لگنے میں بخت بلند کی انفرادی فائرنگ ثابت نہیں ہوسکی۔ عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے میں بخت بلند سے برآمد 9 ایم ایم پستول، موقع سے ملنے والے خول اور فرانزک رپورٹ استغاثہ کے مؤقف کی تائید کرتے ہیں، جبکہ مقتولہ زینب النسا اور بخت بلند کے درمیان ازدواجی تنازع، دوسری شادی، بچوں کے نان نفقے اور زیر التوا مقدمات بھی وقوعے کا پس منظر ثابت کرتے ہیں۔ عدالت کے مطابق زینب النسا کے قتل میں بخت بلند کا کردار اور شواہد ثابت ہونے کے باوجود ازدواجی تنازع کے پس منظر اور دیگر حالات کو دیکھتے ہوئے سزائے موت دینا ضروری نہیں۔ عدالت نے بخت بلند کی زینب النسا کے قتل میں دفعہ 302(ب) کے تحت سزا برقرار رکھتے ہوئے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا، 10 لاکھ روپے معاوضے اور اسلحہ ایکٹ کے تحت 10 سال قید اور جرمانے کی سزا برقرار رکھی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments