سانحہ گل پلازہ،دکانداروں کی درخواست پرتفتیشی افسر کونوٹس
دکانداروں کی فریق بننے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ،مزید سماعت 7 اکتوبر تک ملتوی قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کی جائیں ،دکانداروں کی درخواست
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے سانحہ گل پلازہ کیس میں دکانداروں کی مقدمے میں فریق بننے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا، عدالت نے درخواست گزاروں کے 164 کے بیانات ریکارڈ کرنے کی درخواست پر تفتیشی افسر کو 3 اکتوبر کے نوٹس جاری کرتے ہوئے ملزمان کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ہدایت کردی اور مزید سماعت 7 اکتوبر تک ملتوی کردی۔ سماعت کے دوران یونین صدر تنویر پاستا، رمضان، امین، عمار، نعمت اللہ اور حذیفہ عدالت میں پیش ہوئے ۔ دکانداروں کے وکیل عبدالقیوم قادری ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ سانحہ گل پلازہ بلدیہ فیکٹری سانحے جیسا کیس ہے ، مقدمے میں قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کی جائیں اور دکانداروں کو مقدمے میں فریق بنایا جائے۔
ملزمان کے وکیل جاوید میر ایڈووکیٹ نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ دکانداروں کی فریق بننے کی درخواست قابل سماعت نہیں، سانحہ بلدیہ اور گل پلازہ کے واقعات میں بہت فرق ہے ، بلدیہ فیکٹری میں کیمیکل استعمال کیا گیا تھا جبکہ گل پلازہ میں آتشزدگی ایک حادثہ ہے ۔ سرکاری وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سانحہ بلدیہ بھتے کی عدم ادائیگی پر پیش آیا تھا اور بھتے کی طلبی کی وجہ سے اس مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی تھیں۔ سرکاری وکیل نے استدعا کی کہ دفعات شامل کرنے اور مقدمے میں فریق بننے سے متعلق درخواستیں ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کی جائیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments