جامعہ لاڑکانہ:مسائل حل تک کلاسز، امتحانات کے بائیکاٹ کافیصلہ

جامعہ لاڑکانہ:مسائل حل تک کلاسز، امتحانات کے بائیکاٹ کافیصلہ

تدریسی عملے کی تنخواہوں میں کٹوتی، بجلی بلوں میں اضافے کیخلاف اساتذہ کااحتجاجوی سی، ڈائریکٹر فنانس کی غلط پالیسیوں سے اساتذہ مسائل کاشکار ہیں، مصور سکندر

لاڑکانہ(بیورورپورٹ)یونیورسٹی آف لاڑکانہ میں تدریسی عملے کی تنخواہوں میں مبینہ کٹوتیوں اور بجلی کے بلوں میں اضافے کیخلاف اساتذہ نے مسائل حل ہونے تک تمام کلاسز اور امتحانات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے ، اس سلسلے میں اساتذہ کی جانب سے بغیر کسی پالیسی، نوٹیفکیشن اور پیشگی اطلاع کے تنخواہوں سے کٹوتی اور ہاسٹل میں بجلی کے بلوں میں اضافے کیخلاف احتجاجی اجتماع منعقد کیا گیا، جس میں صدر مصور سکندر مکول، نائب صدر غلام نبی، جنرل سیکریٹری اختر حسین، جوائنٹ سیکریٹری فرحان عباسی، فنانس سیکریٹری سجاد سولنگی، انفارمیشن سیکریٹری آصف سولنگی سمیت دیگر نے شرکت کی، اس موقع پر ایسوسی ایشن کے صدر مصور سکندر مکول نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نیک محمد شیخ اور ڈائریکٹر فنانس کی مبینہ غلط پالیسیوں سے اساتذہ معاشی بدحالی کا شکار ہیں، جبکہ سنڈیکیٹ اور سینیٹ کی منظوری کے بغیر اساتذہ کی تنخواہوں سے کٹوتیاں کی جا رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے ہاسٹل میں رہائش پذیر اساتذہ سے بجلی کے فی یونٹ کے 70 روپے وصول کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث اساتذہ میں شدید تشویش پائی جاتی ہے ، مسائل کے حل کیلئے متعدد بار یونیورسٹی انتظامیہ سے مذاکرات کی کوشش کی گئی، تاہم مسائل حل نہیں ہو سکے ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک غیر قانونی کٹوتیاں واپس اور بجلی بلوں کا مسئلہ حل نہیں ہوتا، کلاسز، امتحانات کا بائیکاٹ جاری رہے گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...