بھارتی حکومت کامساجد شہید کرنا مسلم دشمنی کامظہر، تنظیم اسلامی

بھارتی حکومت کامساجد شہید کرنا مسلم دشمنی کامظہر، تنظیم اسلامی

مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کوبسانا اور مسلمانوں کی نسل کشی انتہائی تشویشناکبھارت وکشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنا پاکستان کا فرض، شجاع الدین

دادو (نامہ نگار)بھارت میں سرکاری سرپرستی میں مساجد کی شہادت مودی حکومت کی مسلم دشمنی کا واضح مظہر ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی ماڈل کے مطابق ہندوؤں کو بسا کر مسلمانوں کی نسل کُشی کی سازش انتہائی تشویشناک ہے ۔ پاکستان کا فرض ہے کہ مقبوضہ کشمیر اور خود بھارت میں ظلم و ستم کے شکار مسلمانوں کی عملی مدد کرے ۔ تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے حال ہی میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران مقبوضہ کشمیر پر بھارتی مظالم کا ذکر تو کیا لیکن بھارت سے 5 اگست 2019ء کے وحشیانہ اقدام کو واپس لینے کا مطالبہ نہیں کیا۔ پھر یہ کہ کشمیر اور بھارت کے مسلمانوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مدد کا درس تو دیا جا رہا ہے مگر عملی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔

حقیقت یہ ہے کہ مودی حکومت 2014ء سے بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی نسل کُشی کی منصوبہ بندی میں ملوث ہے ۔ بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق بھارت میں 2020ء سے اب تک کم و بیش 2166 مساجد شہید کی جا چکی ہیں۔ بھارتی مسلمانوں پرزندگی تنگ کر دی گئی۔ 5 اگست 2019ء کے بعد سے اب تک مودی حکومت نے اسرائیلی ماڈل کو اپناتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں بڑی تعداد میں ہندوؤں کو بسا کر مسلم آبادی کے تناسب کم کیا، جو مقبوضہ کشمیر کو مستقل بھارت میں شامل کرکے مسلمانوں کی نسل کُشی کے بھارتی منصوبے کا حصّہ ہے ۔ پاکستان کا فرض ہے کہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کرے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...