ادارہ امراض قلب میں مارفین کے 3ہزار انجکشن زائدالمعیاد
سال 2023ء میں 6ہزار مارفین انجکشنز خریدے گئے ،مدت نومبر 2025ء تھی انجکشنز کی خریداری اور واپسی قانونی ضابطوں کے تحت ہوتی ہے ،انتظامیہ
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک )قومی ادارہ برائے امراضِ قلب(این آئی سی وی ڈی)میں مارفین کے 3 ہزار انجکشن ایکسپائر ہو گئے اور ان زائد المعیاد انجکشنز کو ایک سال بعد بھی تبدیل نہیں کیا جا سکا۔قومی ادارہ برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) کی دستاویز کے مطابق 2023ء میں 6 ہزار مارفین انجکشنز خریدے گئے تھے جن کے استعمال کی مدت نومبر 2025ء تک تھی۔اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مارفین انجکشن کے نئے اسٹاک کی فراہمی ایکسائز اور نارکوٹکس ڈپارٹمنٹ کی ذمے داری ہے جو بغیر اضافی ادائیگی کے فراہم کیے جائیں گے ۔این آئی سی وی ڈی انتظامیہ نے کہا ہے کہ مارفین انجکشنز کی خریداری اور واپسی قانونی ضابطوں کے تحت ہوتی ہے اور یہ بیرونِ ملک سے درآمد کیے جاتے ہیں۔
ادارہ امراضِ قلب کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر طاہر صغیر نے کہا ہے کہ مارفین انجکشن بطور درد کش دوا استعمال ہوتا ہے جس کی خریداری پیچیدہ عمل ہے اور اسپتال میں مارفین کے متبادل دیگر درد کش ادویات استعمال کی جا رہی ہیں۔ڈاکٹر طاہر صغیر نے یہ بھی کہا ہے کہ مارفین کی جگہ استعمال ہونے والی درد کش ادویات کی خریداری کا عمل اتنا پیچیدہ نہیں ہے ۔ این آئی سی وی ڈی کے ترجمان عبدالنصیر نے وضاحت میں کہا ہے کہ مورفین واپسی کے لیے متعلقہ اجازت ناموں اور قانونی ضوابط کی پابندی ضروری ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments