224 غیر قانونی بل بورڈز کی نشاندہی
قانونی تقاضے پورے کرنے کیلئے 15روز کی مہلت ، خلاف ورزی پر اشتہاری کمپنیوں اور اجازت نامے جاری کرنے والے افسران کے خلاف مقدمات کا فیصلہسڑکوں، فٹ پاتھوں، روڈ آئی لینڈز، گرین بیلٹس، چوراہوںسمیت دیگر عوامی مقامات پر بل بورڈز اور ہورڈنگز نصب کرنے کی اجازت نہیں ہوگی،کمشنر
کراچی(این این آئی)کراچی انتظامیہ نے شہر میں غیر قانونی بل بورڈز اور ہورڈنگز کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے تمام ٹاؤن میونسپل انتظامیہ، بلدیہ عظمیٰ کراچی، کنٹونمنٹ بورڈز، دیگر ترقیاتی اداروں اور اشتہاری کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ 15 روز کے اندر قانونی تقاضے پورے کریں، بصورت دیگر غیر قانونی اشتہاری بورڈز ہٹا دیے جائیں۔یہ فیصلہ کمشنر کراچی کی زیر صدارت ان کے دفتر میں منعقدہ اجلاس میں کیا گیا، جس میں ڈپٹی کمشنرز، میونسپل کمشنرز، کنٹونمنٹ بورڈز کے افسران اور اشتہاری کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم کے عہدیداروں سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر کراچی ون غلام مہدی شاہ اور اسسٹنٹ کمشنر جنرل وقاص عباسی بھی موجود تھے ، جبکہ ڈپٹی کمشنرز نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔اسسٹنٹ کمشنر جنرل وقاص عباسی نے اجلاس کو بتایا کہ کمشنر کراچی کی ہدایت پر شہر میں غیر قانونی بل بورڈز کی نشاندہی اور انہیں قانون کے دائرے میں لانے کے لیے سروے مکمل کرلیا گیا ہے۔
ابتدائی سروے کے مطابق شہر کے مختلف اضلاع میں 224 غیر قانونی بل بورڈز اور ہورڈنگز موجود ہیں، جن میں ضلع شرقی کے 80، ضلع وسطی کے 81، ضلع جنوبی کے 47 اور ضلع غربی کے 16 بورڈز شامل ہیں۔کمشنر کراچی نے کہا کہ شہر بھر میں قواعد کے خلاف اور سڑکوں سمیت عوامی مقامات پر نصب اشتہاری بورڈز ہٹانے کے لیے جامع منصوبہ بندی کرلی گئی ہے ۔ عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ کے فیصلوں پر مکمل عمل درآمد اور متعلقہ قوانین کے تقاضے پورے کیے جائیں گے ۔اجلاس میں تصاویر کے ذریعے تمام 224 بل بورڈز کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ جن بورڈز میں معمولی خامیاں ہیں، انہیں درست کرکے قانونی تقاضے پورے کرنے کا موقع دیا جائے گا، جبکہ سنگین خلاف ورزیوں اور غیر قانونی تنصیبات کے خلاف کارروائی ہوگی۔اجلاس میں واضح کیا گیا کہ سڑکوں، فٹ پاتھوں، روڈ آئی لینڈز، گرین بیلٹس، ڈیوائیڈرز، چوراہوں، پیدل چلنے کے راستوں، نالوں اور ان کے کناروں سمیت دیگر عوامی مقامات پر بل بورڈز اور ہورڈنگز نصب کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس پابندی میں عوامی مقامات پر نصب برقی اشتہاری بورڈز اور زمین پر کھڑے کیے گئے بورڈز بھی شامل ہیں۔خلاف ورزی کرنے والی اشتہاری کمپنیوں کے سربراہان اور اجازت نامے جاری کرنے والے متعلقہ افسران کے خلاف سندھ پبلک پراپرٹی (ریموول آف انکروچمنٹ) ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments