اسپرے نہ ہونے سے شہر مچھروں کی افزائش گاہ
گلی کوچوں میں کچرا کنڈی سے غلاظت میں کیڑوں کی تیزی سے نشوونما غیر سائنسی بنیادوں پر کچرا دوسری جگہ منتقلی سے بھی ماحول شدید متاثر
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)شہر قائد میں کچرا کنڈی عام شاہراہوں اور گلی کوچوں میں ہونے کی وجہ سے عوام کو مسلسل گندگی اور غلاظت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، جبکہ غیر سائنسی بنیادوں پر کچرا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی سے بھی ماحول شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ماہر حشریات کا کہنا ہے کہ ان کچرا کنڈی سے پیدا ہونے والی غلاظت میں مکھیوں، مچھروں اور دیگر اقسام کی الرجی اور بیماریاں پیدا کرنے والے کیڑوں کی تیزی سے نشوونما ہوتی ہے جو براہ راست انسانی صحت کومسلسل متاثر کرتی ہے ۔امراض کا سبب بننے والے مکھیوں، مچھروں اور کیڑوں کے خاتمے کے لیے جراثیم کش ادویات اسپرے بھی نہیں کیا جاتا جس کے باعث ڈینگی کے کیسز میں اضافہ ہورہا ہے۔
دوسری جانب طبی ماہرین نے ڈینگی بخار کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ اور کراچی میں سانس کی بیماریوں میں اضافے کو موثر طریقے سے کنٹرول کرنے میں ناکامی پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ماہرین کا موقف ہے کہ مچھرسے پیدا ہونے والی بیماریوں میں مسلسل اضافہ اور قیمتی انسانی جانوں کانقصان متعلقہ پبلک ہیلتھ اور شہری محکموں کی غفلت، ناقص گورننس اور انتظامی ناکامی کا براہ راست نتیجہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک انسانی ساختہ المیہ ہے جس کی جڑ نظامی خرابی ہے ۔ سیاسی عزم کی کمی نے ہمارے شہروں کو مچھروں کی افزائش گاہوں میں تبدیل کر دیا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments