ماحول دوست عمارتوں کے نئے قوانین کی تیاری
بجلی اور پانی کی کھپت کم کرنے میں مدد ملے گی، ضوابط سے سالانہ 250 گیگاواٹ آور بجلی اور روزانہ ساڑھے 8 کروڑ لٹر پانی کی بچت ممکن ہوگی، ڈاکٹر وسیم شمشادپانی کی قلت اور بجلی کی بندش جیسے مسائل کا سامنا ،پیداوار بڑھانے کے ساتھ ان وسائل کی بچت اور کفایت شعاری سے استعمال بھی ضروری، ڈی جی ایس بی سی اے
کراچی(این این آئی) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے ) نے صوبے میں گرمی، بجلی اور پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ماحول دوست عمارتوں کے ضوابط متعارف کرانے کی تیاری شروع کردی ہے ۔ مجوزہ قوانین کے نفاذ سے نئی عمارتوں میں بجلی اور پانی کی کھپت کم کرنے میں مدد ملے گی۔اس سلسلے میں ایس بی سی اے اور سندھ انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن ایجنسی (سیکا) کے اشتراک سے کراچی میں مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کے تیار کردہ مسودے کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی ایس بی سی اے ڈاکٹر وسیم شمشاد نے کہا کہ کراچی سمیت سندھ بھر کو پانی کی قلت اور بجلی کی بندش جیسے مسائل کا سامنا ہے ۔ پانی اور بجلی کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ان وسائل کی بچت اور کفایت شعاری سے استعمال بھی ضروری ہے۔
مجوزہ ضوابط پائیدار تعمیرات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی جانب اہم قدم ثابت ہوں گے ۔مجوزہ ضوابط کے تحت عمارتوں میں ماحول دوست تعمیراتی طریقوں کو فروغ دینے کے لیے ایسے اقدامات شامل کیے جائیں گے جو سندھ کے گرم موسم کے مطابق، کم لاگت اور قابل عمل ہوں۔ ان میں دھوپ کی حرارت منعکس کرنے والی چھتیں، کم بجلی استعمال کرنے والے پنکھے اور روشنیاں، جبکہ پانی کی بچت کرنے والی سینیٹری تنصیبات شامل ہیں۔آئی ایف سی کے گرین بلڈنگز پروگرام پاکستان کی سربراہ ریشما آفتاب نے کہا کہ ان ضوابط کے مطلوبہ نتائج کے لیے ان پر مؤثر عمل درآمد ضروری ہے ، تاکہ سندھ بھر میں توانائی کی بچت کرنے والی پائیدار عمارتیں تعمیر کی جاسکیں۔آئی ایف سی کی سفارشات کراچی، حیدرآباد، نواب شاہ، سکھر اور لاڑکانہ میں کیے گئے سروے کی بنیاد پر تیار کی گئی ہیں۔
آئی ایف سی کے تخمینے کے مطابق مجوزہ قوانین کے تحت تعمیر ہونے والی عمارتوں سے 2036ء تک سالانہ تقریباً 250 گیگاواٹ آور بجلی کی بچت ممکن ہوگی، جبکہ روزانہ تقریباً ساڑھے 8 کروڑ لیٹر پانی محفوظ کیا جاسکے گا۔ اس کے علاوہ آئندہ 10 برس میں کاربن کے اخراج میں 5 لاکھ ٹن سے زیادہ کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے ۔مجوزہ فریم ورک میں چھوٹی رہائشی عمارتوں اور بڑے تعمیراتی منصوبوں کے لیے الگ تقاضے رکھے گئے ہیں۔ اجلاس کے شرکا نے تعمیراتی لاگت، مقامی سامان کی دستیابی اور ضوابط پر آسانی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے پر زور دیا۔اجلاس میں مسودے کو حتمی شکل دینے کے لیے تکنیکی کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق کیا گیاجبکہ ضوابط کو منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments