سائت ایریا ، گتے کی فیکٹری میں آک 8 گھنٹے بعد بجھادی گئی
آگ پر 12 سے زائد فائر ٹینڈرز، 3 اسنارکلز اور 2 واٹر باؤزر کی مدد سے قابو پایاگیا،فیکٹری کی بالائی منزل کی دیواریں گرنے کا خدشہ پلاسٹک دانہ آگ کی شدت کا باعث بنا،قابو پانے کے لیے پانی اور فوم کا استعمال کیا گیا،کولنگ کے عمل مزید کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)فائر بریگیڈ نے سائٹ ایریا میں گتے کی فیکٹری میں لگنے والی آگ پر 8 گھنٹے بعد قابو پالیا ۔چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے کہا کہ آگ پر 12 سے زائد فائر ٹینڈر، 3 اسنارکلز اور 2 واٹر باؤزر کی مدد سے قابو پایا۔انہوں نے مزید کہا کہ کولنگ کا عمل مکمل ہونے میں مزید کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ فیکٹری میں پلاسٹک کے رول اور پلاسٹک دانہ کے باعث آگ میں شدت تھی۔فائر بریگیڈ حکام نے دوپہر 1 بج کر 40 منٹ لگنے والی آگ سے فوری طور پر فیکٹری کے عملے کو نکال لیا گیا تھا جبکہ آگ تیسرے درجے کی قرار دی گئی۔حکام کے مطابق آگ فیکٹری کی دوسری منزل پر لگی تھی، جس نے تیسری منزل کو بھی لپیٹ میں لے لیا تھا، فیکٹری کی بالائی منزل کی دیواریں گرنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا، جن میں دراڑیں پڑ گئی تھیں۔فائر بریگیڈ حکام کے مطابق متاثرہ فیکٹری کے ایک حصے میں 10 روز قبل بھی آگ لگی تھی، بالائی منزل پر لکڑی، دھاگا، گارمنٹس، فوم پلاسٹک اور دیگر سامان موجود ہے۔
فائر بریگیڈ حکام کے مطابق متاثرہ فیکٹری میں پلاسٹک دانہ بڑی مقدار میں موجود ہے ، پلاسٹک دانہ آگ کی شدت کا باعث بن رہا تھا، آگ پرقابو پانے کے لیے پانی اور فوم کا استعمال کیا گیا۔ سائٹ ٹاؤن میں واقع فیکٹری میں آتشزدگی کے بعد کراچی واٹر کارپوریشن نے کرش پلانٹ، نیپا، سخی حسن اور صفورہ ہائیڈرنٹس پر ہنگامی حالت نافذ کردی، جبکہ آگ بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کو پانی کی بلا تعطل فراہمی کی گئی۔واٹر کارپوریشن کے فوکل پرسن برائے ہائیڈرنٹس سیل شہباز بشیر کے مطابق فائر بریگیڈ کو اب تک تقریباً 3 لاکھ گیلن پانی فراہم کیا جاچکا ہے ۔ کرش پلانٹ ون اور ٹو ہائیڈرنٹس سے 2 لاکھ 10 ہزار گیلن، نیپا ہائیڈرنٹ سے 40 ہزار گیلن، سخی حسن ہائیڈرنٹ سے 35 ہزار گیلن اور صفورہ ہائیڈرنٹ سے 12 ہزار گیلن پانی فراہم کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد علی صدیقی کی ہدایات پر فائر بریگیڈ اور امدادی اداروں کو پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی گئی ہے ، جو آگ پر مکمل قابو پانے تک جاری رہے گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments