بلوچ کالونی میں سڑک پرواٹر ہائیڈرنٹ، 11 فریقوں کو نوٹس

بلوچ کالونی میں سڑک پرواٹر ہائیڈرنٹ، 11 فریقوں کو نوٹس

غیر قانونی واٹر ہائیڈرنٹس مسائل کاسبب بن رہے ، جوڈیشل مجسٹریٹ میں درخواستذوالفقار مرزا کی ہائیکورٹ سے حکومت ایکٹ کیخلاف درخواستیں واپس لینے پرخارج

کراچی (اسٹاف رپورٹر)بلوچ کالونی میں سڑک پر قائم مبینہ غیر قانونی واٹر ہائیڈرنٹس کیخلاف درخواست پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن، کمشنر ، ڈپٹی کمشنر ایسٹ، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، ٹی ایم سی چنیسر، پولیس اور اینٹی کرپشن سمیت 11 فریقین کو نوٹس جاری کردیے ۔ درخواست محمد مون میئو اور دیگر کی جانب سے جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ کی عدالت میں دائر کی گئی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بلوچ کالونی میں سڑک پرغیر قانونی، غیر مجاز واٹر ہائیڈرنٹس چلائے اور دیکھ بھال کی جارہی ہے جو عوامی اذیت اور عوامی راستے کے استعمال سے متعلق مسائل کا سبب ہیں۔

استدعا ہے غیر مجاز واٹر ہائیڈرنٹس کے خاتمے کیلئے قانونی کارروائی کی جائے ۔ دریں اثنا سندھ ہائیکورٹ کے دو رکنی آئینی بینچ نے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی جانب سے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے خلاف دائر آئینی درخواستیں واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردیں۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل شہزاد ایڈووکیٹ، الیکشن کمیشن کے لا افسر عبداللہ ہنجرہ اور ڈپٹی اٹارنی جنرل مہرین پیش ہوئے ۔ فریقین کے مختصر دلائل کے بعد درخواست گزار کے وکیل نے ہدایات کی روشنی میں درخواستوں کی مزید پیروی نہ کرنے کا بیان دیا۔ درخواستوں میں سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایکٹ کی دفعہ 18-A آئین کے آرٹیکل 140-A سے متصادم ہے ، کیونکہ یہ آزادانہ منتخب کونسل ممبران کومخصوص نشستوں کے امیدواروں کوووٹ دینے سے روکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...