منکی پاکس پھیلانے پر غیرقانونی سپتال سربمہر
آلودہ آلات سے ختنے کے باعث 20 روزہ نومولود بچہ متاثر ہوا، سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن، پولیس اور ڈی ایچ او کی مشترکہ کارروائی، مزاحمت پر پولیس طلب، اتائی ودیگر افرا دفرارکارروائی اسپتال میں صفائی کی ناقص صورتحال، انفیکشن سے بچاؤ اور اس پر قابو پانے کے ناکافی انتظامات اور مبینہ غیر قانونی طبی سرگرمیوں کے باعث کی گئی،ایس ایچ سی سی
کراچی(اے پی پی،مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن (ایس ایچ سی سی)نے ایم پاکس وائرس پھیلانے میں ملوث ایک غیرقانونی اسپتال (اتائی مرکز)کو سیل کردیا۔ تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) کورنگی کی جانب سے ایک 20 روزہ نومولود میں منکی پاکس (ایم پاکس) وائرس پھیلنے کی رپورٹ کے بعد اس کی تفتیش کی گئی تو معلوم ہوا کہ بچے کا جس مرکز میں ختنہ ہوا اس کے زیر استعمال آلات میں وائرس پایا گیا جس کے بعد ملیر 15 کے علاقے اور سعودآباد پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع ابنِ حسن اسپتال کیخلاف کارروائی کی گئی اور اسپتال کو سیل کر دیا گیا۔ نومولود بچہ وائرس سے آلودہ آلات کے ذریعے ختنہ کیے جانے کے بعد اس انفیکشن کا شکار ہوا۔ بچے کے نمونے کی ڈا لیبارٹری میں جانچ کی گئی، جہاں پر منکی پاکس کی تصدیق ہوئی۔
جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ضلعی صحت انتظامیہ کی جانب سے شکایت موصول ہونے کے بعد سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے حکام نے ڈی ایچ او کورنگی اور ایس ایس پی کورنگی کے تعاون سے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسپتال کو سیل کر دیا۔ مذکورہ اسپتال غیر قانونی طور پر چلایا جا رہا تھا جہاں غیر مستند عملہ اور اتائی عملہ بچوں کے ختنے کررہے تھے ۔ کارروائی کے دوران اسپتال کے عملے نے مزاحمت کی اور اپنے دفاع میں اپنے ساتھیوں کو بھی طلب کرلیا جس کے بعد ضلعی پولیس انتظامیہ کی مدد سے ہیلتھ کیئرکمیشن نے اسپتال کا مکمل جائزہ لیا جب کہ بعد میں اتائی عناصر اور دیگر لوگ موقع سے فرار ہوگئے ۔ ایس ایچ سی سی کی جانب کردہ پریس رلیز کے مطابق یہ کارروائی اسپتال میں صفائی کی ناقص صورتحال، انفیکشن سے بچا اور اس پر قابو پانے کے ناکافی انتظامات اور مبینہ غیر قانونی طبی سرگرمیوں کے باعث کی گئی جن سے مریضوں کی حفاظت اور صحتِ عامہ کو سنگین خطرات لاحق تھے۔
کراچی میں اتائی (جعلی ڈاکٹرز) مضافاتی اور گنجان آباد علاقوں میں تیزی سے سرگرم ہیں اور ایک رپورٹ کے مطابق صرف لانڈھی اور کورنگی جیسے علاقوں میں ہی 8,000 سے زائد اتائی اڈوں کا انکشاف ہوا ہے ۔ یہ اتائی ایک یا دو کمروں کے غیر قانونی کلینکس اور میٹرنٹی ہومز چلا کر شہریوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ لانڈھی، کورنگی، کیماڑی، بلدیہ ٹاؤن (مشرف کالونی) اور مچھھر کالونی جیسے گنجان آباد مضافات ان اتائیوں کے گڑھ بن چکے ہیں۔یہ زیادہ تر ایسے افراد ہوتے ہیں جنہوں نے کسی اسپتال، ڈسپنسر یا ڈاکٹر کے پاس اسسٹنٹ کے طور پر کچھ وقت کام کیا ہوتا ہے اور بعد میں خود ڈاکٹر بن کر کلینک کھول لیتے ہیں۔غلط ادویات اور غلط انجکشنز دینے کی وجہ سے متعدد مریض بالخصوص خواتین اپنی جانیں گنوا چکی ہیں۔ عوامی حلقوں کا الزام ہے کہ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی مبینہ غفلت، گٹھ جوڑ اور سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ غیر قانونی کاروبار بلا خوف و خطر جاری ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments