پسٹل سستا کھلونا مہنگا پنجاب میں اسلحہ کی 100 سے زائد انڈر گراؤنڈ مارکیٹیں جرائم کا گراف بڑھ گیا

پسٹل سستا کھلونا مہنگا پنجاب میں اسلحہ کی 100 سے زائد انڈر گراؤنڈ مارکیٹیں جرائم کا گراف بڑھ گیا

اسلحہ کی ترسیل پشاور اور علاقہ غیرسے ڈرائی فروٹ لانیوالے ٹرکوں کے ذریعے کی جاتی ہے ، ناکوں پر کھڑے پولیس افسر اور اہلکار جعلی لائسنس کو پہچان ہی نہیں سکتے ،پستول اور موزر500 سے 10ہزار روپے تک باآسانی دستیاب ہے ہوم ڈیپاٹمنٹ کے ناک تلے اسلحہ کی کھلے عام خریدوفروخت سے وزارت داخلہ کی اسلحہ پالیسی پر سوالیہ نشان لگ گیا،موجودہ حکومت کے دور میں50ہزار سے زائد افراد کو غیر ممنوعہ بور کے لائسنس جاری ہوئے :خفیہ اداروں کی رپورٹ میں انکشاف

پنجاب میں پستول کھلونوں سے بھی سستا ہوگیا،انڈر گراؤنڈ100سے زائد مارکیٹوں سے جرائم کاگراف بڑھ گیا ،پنجاب میں ناجائز اسلحہ کے حوالہ سے وزارت داخلہ پنجاب اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کو بھجوائی گئی ایک خفیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک بھر کی طرح پنجاب میں بھی غیر قانونی اسلحہ پر پابندی اور حکومتی دعوؤں کے باوجود وزارت داخلہ اور ہوم ڈیپاٹمنٹ کے ناک تلے ناجائز اسلحہ سمیت پستول،رائفل اور گولیوں کی کھلے عام خریدوفروخت جاری ہے ،قانون نافذکرنے والے ادارے بھی ناجائز اسلحہ کی خریدوفروخت روکنے میں بری طرح ناکام نظر آتے ہیں،ناجائز اسلحہ کا کاروبار پنجاب بھر میں ایک بھیانک شکل اختیار کر گیا ،وجہ ہے کہ پنجاب میں جرائم تیزی سے بڑھ رہے ہیں، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزارت داخلہ کی اسلحہ پالیسی پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے کہ آیا یہ محکمہ اسلحہ کے خاتمہ کیلئے متحرک ہے یا پنجاب سمیت ملک بھر میں ہولناک اسلحہ پھیلانے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے ، خفیہ اداروں کے سامنے یہ بات آئی ہے کہ ملک بھر کی طرح پنجاب میں بھی بڑے بڑے اسلحہ ڈیلر مبینہ طور پرپولیس افسران کی ملی بھگت سے علاقہ غیر سے بھاری اسلحہ لاتے ہیں جسے پنجاب بھر کے مختلف علاقوں میں کھلے عام فروخت کیا جا رہا ہے اور اس اسلحہ کی ترسیل عام طور پر ان ٹرکوں کے ذریعے ہو رہی ہے جو پشاور اور علاقہ غیرسے مختلف سامان اور خاص طور پر ڈرائی فروٹ،سیب، خو بانی اور آلو بخارا وغیرہ لیکر پنجاب کے مختلف شہروں میں آ رہے ہیں ،رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پنجاب کی مقامی اسلحہ مارکیٹ میں ایک دیسی ساخت کے پستول یا موزر کی قیمت غیر ایک معمولی درجے کے موبائل یا کھلونے کی قیمت سے بھی کم ہے ،خفیہ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ پنجاب کے دیہی علاقوں میں عام لوگوں کے پاس ایک پستول سے لیکر گن اور رائفل تک موجود ہے جسے وہ اپنے روز مرہ کے معمولات میں ساتھ رکھتے ہیں،علاقہ غیر اور پشاور کے نواحی علاقے تو درکنار اب تو پنجاب کے ہر علاقہ میں ناجائز اسلحہ کی انڈر گراؤنڈ مارکیٹ موجود ہے جن کی تعداد100کے قریب پہنچ چکی ہے جس کیخلاف وزارت داخلہ’ ہوم ڈیپارٹمنٹ سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے کارروائی کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہیں اور رہی سہی کسر ناجائز اسلحہ رکھنے والے افراد کیخلاف ہونے والی معمولی کارروائی نے پوری کر دی ہے کیونکہ آٹومیٹک اسلحہ کے علاوہ کوئی بھی ہتھیار برآمد ہونے کی صورت میں زیر دفعہ13/20/65 مقدمہ درج ہوتا ہے جس کی قانون کے مطابق علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں جاتے ہی ضمانت ہو جاتی ہے ۔پنجاب میں اسلحہ کی انڈر گرائونڈ مارکیٹوں میں راولپنڈی’ لا ہور’ فیصل آباد’ شیخوپورہ’ خوشاب’ جھنگ’رحیم یار خان’ چنیوٹ’ ڈیرہ غازیخان و دیگر کئی اضلاع شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق موجودہ حکومت کے دورمیں50ہزار سے زائد افراد کو غیر ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس جاری کئے گئے جبکہ جعلی لائسنس لاکھوں کی تعداد میں ہیں جنہیں ناکوں پر کھڑے پولیس افسران اور اہلکار پہچان ہی نہیں سکتے جبکہ ہزاروں افراد نے ایک ایک لائسنس پر کئی کئی ہتھیار رکھے ہوئے ہیں،انڈر گراؤنڈ اسلحہ مارکیٹ میں پستول اور موزر500روپے سے لیکر10ہزار روپے تک آسانی سے مل جاتا ہے ،بھارت میں موزر اور پستول 2لاکھ50ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ پاکستان میں جدید ترین7.62ایم ایم موزر صرف30ہزار روپے میں مل جاتا ہے اور اسلحہ کے سمگلر یہ موزر خریدار کے گھر تک پہنچا کر جاتے ہیں۔اس سلسلہ میں جب موقف حاصل کرنے کیلئے سی سی پی او لا ہور حاجی محمد اسلم ترین اور ڈی آئی جی آپریشن رائے محمد طاہر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی پولیس غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کیخلاف کاروائی کرتی آئی ہے اور اس کے باعث بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد کیا گیا اور سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور اب بھی ناجائز اسلحہ کیخلاف مہم شروع کی جارہی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں