ریپز کی ضابطہ شدہ رسائی ممکن بنائی جائے :پی پی ایم اے
وزیر صحت پنجاب سلمان رفیق کو باضابطہ درخواست ارسال کردی گئی
لاہور (ہیلتھ رپورٹر )پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں میڈیکل ریپریزنٹیٹوز کے داخلے پر عائد پابندی کے معاملے پر پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے ) نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پابندی کے فوری جائزے اور خاتمے کا مطالبہ کر دیا ہے ۔ پی پی ایم اے کا کہنا ہے کہ میڈیکل ریپریزنٹیٹوز ڈاکٹروں کے لیے جدید ادویات، تحقیق اور علاج سے متعلق سائنسی و تعلیمی معلومات کا ایک اہم ذریعہ ہوتے ہیں، جبکہ مکمل پابندی سے ڈاک ٹروں کی جدید طبی معلومات تک رسائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔ایسوسی ایشن کے مطابق اس حوالے سے وزیر صحت پنجاب سلمان رفیق کو باضابطہ درخواست بھی ارسال کی گئی ہے ، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مکمل پابندی کے بجائے ریگولیٹڈ اور ضابطہ شدہ رسائی کو ممکن بنایا جائے تاکہ تعلیمی اور سائنسی روابط برقرار رہ سکیں۔ میڈیکل ریپریزنٹیٹوز اخلاقی اصولوں اور ضابطہ جاتی فریم ورک کے تحت کام کرتے ہیں، جبکہ پابندی کی صورت میں مریضوں کی نگہداشت اور علاج سے متعلق فیصلوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔