خیابان فردوسی : شگاف زدہ سڑک کی مستقل مرمت نہ کی جاسکی
اللہ ہو چوک سے شوکت خانم تک اس اہم شاہراہ پر اب تک سترہ مرتبہ شگاف پڑ چکے ،ہر بار عارضی پیچ لگا کر ٹریفک بحال کر دی جاتی شگاف زدہ سڑک کو ٹرنک سیور منصوبے میں شامل ہوا نہ ہی کارپٹنگ سکیم کا حصہ بنا،آئندہ کارپٹنگ سکیم کا حصہ بنایا جا سکتا ہے :انتظامیہ
لاہور (شیخ زین العابدین)خیابان فردوسی سڑک کی کارپٹنگ کے معاملے پر اداروں کی ناقص منصوبہ کا شاخسانہ سامنے آگیا، شگاف زدہ سڑک کو نہ تو ٹرنک سیور منصوبے میں شامل کیا گیا اور نہ ہی کارپٹنگ سکیم کا حصہ بنایا گیا،سڑک کی بنیادی مرمت کے بغیر اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود مستقبل میں بھی شگاف پڑنے کا سلسلہ جاری رہے گا،ذرائع کے مطابق خیابانِ فردوسی جوہر ٹاؤن میں سڑکوں کی مسلسل ٹوٹ پھوٹ ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے ۔ اللہ ہو چوک سے شوکت خانم تک اس اہم شاہراہ پر اب تک سترہ مرتبہ شگاف پڑ چکے ہیں، مگر ہر بار مستقل حل کے بجائے عارضی پیچ لگا کر ٹریفک بحال کر دی جاتی رہی۔حیران کن طور پر اس شگاف زدہ سڑک کو نہ تو ٹرنک سیور منصوبے میں شامل کیا گیا اور نہ ہی کارپٹنگ سکیم کا حصہ بنایا گیا۔ اس وقت واسا کی جانب سے شوکت خانم سے شوق چوک جانے والی سڑک پر ٹرنک سیور بچھانے کا کام جاری ہے ، جبکہ ایل ڈی اے اسی روٹ پر کارپٹنگ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ، مگر وہ حصہ جہاں بار بار شگاف پڑتے ہیں، منصوبے سے باہر رکھا گیا ہے ۔واسا کی جانب سے ٹرنک سیور منصوبے پر دو ارب روپے سے زائد لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے ، تاہم جب تک اصل مسئلہ یعنی شگاف زدہ سڑک کی مکمل بحالی نہیں کی جاتی، تب تک ٹریفک کی روانی میں بہتری ممکن نہیں ہو سکے گی۔شہریوں کو خدشہ ہے کہ سڑک کی بنیادی مرمت کے بغیر اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود مستقبل میں بھی شگاف پڑنے کا سلسلہ جاری رہے گا، جس سے نہ صرف ٹریفک متاثر ہو گی بلکہ عوام کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوگا۔دوسری جانب ایل ڈی اے انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اللہ ہو چوک سے شوکت خانم تک سڑک کی کارپٹنگ فی الحال منصوبے میں شامل نہیں، تاہم مستقبل میں اس سڑک کو کارپٹنگ سکیم کا حصہ بنایا جا سکتا ہے ۔