جعلی دودھ تیار کرنیوالے نرمی کے مستحق نہیں : ہائیکورٹ
مصنوعی دودھ جسے ‘میٹھا زہر بھی کہا جاتا ہے ، یہ دودھ نہیں، قدرتی دودھ کی ایک مصنوعی نقل :جسٹس تنویر احمد شیخ 2400 لٹر ملاوٹ والے دودھ کی ترسیل کرنے کے مقدمے میں ملزم کی ضمانت پر رہائی کی درخواست مسترد،فیصلہ جاری
لاہور(کورٹ رپورٹر ) لاہور ہائیکورٹ نے قراردیا ہے کہ جعلی، مصنوعی اور غیر معیاری دودھ تیار کرنے ، ترسیل کرنے والے کسی قسم کی نرمی کے مستحق نہیں، لاہور ہائیکورٹ نے 2400 لٹرملاوٹ والے دودھ کی ترسیل کرنے کے مقدمے میں ملزم کی ضمانت پر رہائی کی درخواست مسترد کردی ،جسٹس تنویر احمد شیخ نے ملزم محمد یونس کی درخواست ضمانت پر چھ صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا ،عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دودھ کو مکمل غذا یا مکمل مشروب کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، دودھ ہڈیوں کی نشوونما کے لیے بھی مفید ہے جو ہڈیوں کے فریکچر کے امکانات کو کم کرتا ہے، مصنوعی دودھ جسے ‘میٹھا زہر بھی کہا جاتا ہے ، یہ دودھ نہیں بلکہ قدرتی دودھ کی ایک مصنوعی نقل ہے۔
فیصلہ میں مزید لکھا ہے کہ دودھ کی مقدار بڑھانے کے لیے انتہائی درجے کی ملاوٹ کی جاتی ہے ،مصنوعی دودھ فوراً جان لیوا ثابت نہیں ہوتا، لیکن آہستہ آہستہ جسم کو بیماریوں کے لیے ایک زرخیز زمین یا فارم ہاؤس بنا دیتا ہے ،تحقیقات کے مطابق مصنوعی دودھ کا استعمال انسانی جسم کو نہایت سنگین نقصانات پہنچاتا ہے ،مصنوعی دودھ حاملہ خواتین ، بچوں اور دل کے امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے خطرناک ہے ،فیصلہ میں لکھا ہے کہ موجودہ مقدمے میں مجموعی طور پر پانچ سال قید ہے ، عام طور پر ان مقدمات میں ضمانت منظور ہوجاتی ہے ، عدالتی فیصلے نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے متعدد فیصلے موجود ہیں کہ ہر کیس میں ضمانت لینا لازم نہیں ہر مقدمہ اپنے مخصوص حالات و واقعات کی روشنی میں پرکھا جانا ضروری ہے ،عدالت غیر معمولی حالات کی موجودگی میں ایسے مقدمات میں بھی ملزم کو ضمانت دینے سے انکار کر سکتی ہے۔
جعلی، مصنوعی اور غیر معیاری دودھ تیار کرنے، ترسیل کرنے والے کسی قسم کی نرمی کے مستحق نہیں ،موجودہ مقدمے کے حالات نہایت خوفناک تصویر پیش کر رہے ہیں۔ عدالت ملزم کی ضمانت پر رہائی کی درخواست مسترد کرنے کا حکم دیتی ہے ،درخواست گزار کے وکیل کے مطابق ملزم درخواست گزار ملاوٹ شدہ دودھ کا تیار نہیں کر رہا ، وکیل کے مطابق ملزم کا کیس فوڈ اتھارٹی ایکٹ کے زمرے میں نہیں آتا، فیصلہ میں لکھا ہے کہ وکیل کے مطابق ملزم کے خلاف دیگر دفعات قابل ضمانت جرم کی ہیں، درخواست گزار کو ایک جگہ سے دوسری جگہ گاڑی/ٹینکر کے ذریعے مصنوعی دودھ لے جاتے ہوئے پایا گیا،درخواست گزار ملاوٹ شدہ دودھ کی ترسیل کررہا تھا، اس کا کیس فوڈ اتھارٹی ایکٹ کے زمرے میں آتا ہے ،ملزم محمد یونس کے خلاف تھانہ کوٹ رادھا کشن میں فوڈ اتھارٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج تھا،جوڈیشل مجسریٹ اور سیشن عدالت نے ملزم کی ضمانت پر رہائی کی درخواست خارج کردی تھی۔