شہر میں سینکڑوں واٹر فلٹریشن پلانٹ بند:صاف پانی فراہم نہ ہوسکا
280پلانٹس غیر فعال،پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے زیر انتظام صورتحال زیادہ تشویشناک ،صرف 13فعال ،شہری دعوؤں پرعملد رآمدکے منتظر
لاہور (شیخ زین العابدین)لاہور کے باسیوں کو صاف پانی کی فراہمی کے دعوئوں کے برعکس شہر بھر میں سینکڑوں واٹر فلٹریشن پلانٹ بندہیں، صاف پانی فراہمی کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا ۔واٹر فلٹریشن پلانٹس سے متعلق چشم کشا انکشافات سامنے آ گئے ۔ذرائع کے مطابق ضلع لاہور میں سرکاری سطح پرمجموعی طور پر 929 واٹر فلٹریشن پلانٹس لگائے گئے ،جن میں سے 280 فلٹریشن پلانٹس غیر فعال ہیں ۔پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈویژن لاہور کے زیر انتظام فلٹریشن پلانٹس کی صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ،جہاں 121 فلٹریشن پلانٹس مکمل طور پر غیر فعال ہیں جبکہ اسی محکمے کے زیر انتظام صرف 13 فلٹریشن پلانٹس ہی اس وقت فعال ہیں۔دوسری جانب لوکل کمیونٹی کے زیر انتظام صرف 12 فلٹریشن پلانٹس چلائے جا رہے ہیں جبکہ پنجاب صاف پانی اتھارٹی کے زیر انتظام 89 واٹر فلٹریشن پلانٹس فعال بتائے جا رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے غیر فعال 121 فلٹریشن پلانٹس میں سے 80 پلانٹس کی بحالی پر صاف پانی اتھارٹی کام کر رہی ہے جو تاحال فعال نہ ہو سکے اورباقی ماندہ 41 پلانٹس کو اسی حالت میں چھوڑ دیا گیا ہے جن پر لگنے والے سرکاری فنڈزضائع ہونے کا خدشہ ہے ۔غیر فعال فلٹریشن پلانٹس کومرحلہ وار فعال کرنے کا پلان تو بناکر صاف پانی اتھارٹی کے حوالے کیا گیامگر عملی طور پرشہریوں کو اس منصوبے کا کوئی فائدہ تاحال نہیں مل سکا۔ناقص منصوبہ بندی، عدم نگرانی اور ادارہ جاتی کمزوریوں پر لاہور میں صاف پانی کے منصوبے سوالیہ نشان بنتے جا رہے ہیں اور شہری آج بھی صاف پانی فراہمی کے سرکاری دعوؤں پرعملد رآمدکے منتظر ہیں۔