چیف جسٹس لڑکی بازیاب نہ ہونے پر آئی جی پر برہم

 چیف جسٹس لڑکی بازیاب نہ ہونے پر آئی جی پر برہم

4سال سے لاپتہ17سالہ لڑکی بازیاب کرانے کیلئے 25فروری تک مہلت بچیوں کے لاپتہ کیسز میں لاپرواہی برداشت نہیں کی جائیگی :جسٹس عالیہ نیلم

لاہور (کورٹ رپورٹر )چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم 4سال سے لاپتہ17سالہ لڑکی کی عدم بازیابی پر آئی جی پنجاب پر سخت برہم ، بازیابی کیلئے 25فروری تک مہلت دیکر رپورٹ طلب کرلی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بچیوں کے لاپتہ کیسز میں لاپرواہی برداشت نہیں کی جائیگی، جائیں ہر صورت بچی کو بازیاب کی کرواکر لائیں ۔چیف جسٹس کے روبروموقف اختیار کیا گیا کہ سلمیٰ بی بی کیبیٹی چار سال سے لاپتہ ہے پولیس ابھی تک بازیاب نہیں کرسکی ۔دوران سماعت عدالتی حکم پر آئی جی راؤ عبدالکریم عدالت پیش ہوئے چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ درخواست گزار سلمیٰ بی بی کہاں ہے ؟ کہیں اسے ڈرا تو نہیں دیا ؟ وکیل نے بتایا درخواست گزار یہیں ہے ۔ چیف جسٹس نے آئی جی سے استفسار کیا بتائیے بچی کہاں ہے ؟ ابھی تک بازیاب کیوں نہ ہوسکی۔ آئی جی نے بتایا یہ چار سال پرانا کیس ہے کل ہی فائل دیکھی،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ چار سال آپکے تفتیشی نے کیا کچھ کیا؟ آئی جی نے بتایا کیس پر کچھ لوگوں کا ریمانڈ لیا گیا پولیس نے کارروائی بھی کی ۔چیف جسٹس نے استفسار کیا جو آپ بتا رہے وہ کیا بھی ہے یا صرف باتیں ہیں؟ایف آئی آر کو چار سال گزر گئے مگر کوئی اتا پتہ نہیں جب کوئی بچی لاپتہ ہوتی ہے تو پولیس کا مائنڈ سیٹ یہ ہوتا ہے کہ خود ہی کہیں چلی گئی ہے بچیوں کے معاملے پر ایسا رویہ نہیں ہونا چاہیے ۔ آئی جی نے کہاہم کیس کی تفتیش دوبارہ شروع کرتے ہیں چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا 4سال کا وقت تھوڑا ہوتا ہے جو مزید وقت چاہیے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں