فنڈز کی عدم فراہمی،شہر کے کئی بڑے منصوبے ٹھپ
ایل ڈی اے کو ماضی کے منصوبوں کی ادائیگیوں میں مشکلات ،مکمل اور زیر تعمیر سکیموں کے اربوں روپے واجب الادا،فنڈز کے اجرا کے لیے متعدد بار مراسلے ارسالبند روڈ ایکسیس کنٹرول کوریڈور اور راوی برج توسیع جیسے بڑے پراجیکٹس مکمل ہونے کے باوجود مکمل ادائیگیاں نہ ہو سکیں،منصوبوں کی سمریاں فائلوں میں دب گئیں
لاہور (شیخ زین العابدین)لاہور میں ترقیاتی رفتار سست، فنڈز کی عدم فراہمی نے بڑے منصوبے روک دیے ، ایل ڈی اے کو ماضی کے منصوبوں کی ادائیگیوں میں مشکلات کا سامنا، مکمل اور زیر تعمیر سکیموں کے اربوں روپے واجب الادا، بند روڈ، راوی برج اور سپورٹس کمپلیکسز سمیت اہم پراجیکٹس مالی رکاوٹوں کا شکار،ذرائع کے مطابق صوبائی دارالحکومت لاہور میں ترقیاتی منصوبے مالی دباؤ کا شکار ہو گئے ، جہاں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو ماضی کے منصوبوں کی ادائیگیوں میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔ پنجاب حکومت کی جانب سے مختلف ترقیاتی سکیموں کے واجب الادا فنڈز تاحال جاری نہ کیے جا سکے ، جس کے باعث کئی مکمل اور زیر تکمیل منصوبوں کی ادائیگیاں تاخیر کا شکار ہیں۔ایل ڈی اے حکام کی جانب سے فنڈز کے اجرا کے لیے متعدد بار مراسلے ارسال کیے گئے ، تاہم ان درخواستوں پر خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی۔ بند روڈ ایکسیس کنٹرول کوریڈور اور راوی برج توسیعی منصوبہ جیسے بڑے پراجیکٹس کا تعمیراتی کام مکمل ہونے کے باوجود مکمل ادائیگیاں نہ ہو سکیں۔ بند روڈ منصوبے کے ڈیڑھ ارب روپے کے بقایا جات بھی تاحال ادا نہیں کیے گئے ۔
اسی طرح پرانے راوی برج کی بہتری کے لیے بائیس کروڑ ترپن لاکھ روپے کے فنڈز کی سمری بھی منظوری کی منتظر ہے ، جبکہ سٹرکچرل پلان روڈز اور ٹولنٹن مارکیٹ جیسے اہم منصوبے مالی رکاوٹوں کے باعث سست روی کا شکار ہو چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان منصوبوں سے متعلق سمریاں فائلوں میں دب کر رہ گئیں اور عملی پیش رفت نہ ہو سکی۔شہر میں جاری سپورٹس کمپلیکسز کی تعمیر کے لیے پانچ ارب روپے کے فنڈز بھی جاری نہ ہونے سے ترقیاتی کام متاثر ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق فنڈز کی مسلسل عدم فراہمی سے نہ صرف منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر ہو رہی ہے بلکہ لاگت میں بھی اضافہ ہونے کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے ۔لاہور میں ترقیاتی عمل کو برقرار رکھنے کے لیے بروقت فنڈز کی فراہمی ناگزیر قرار دی جا رہی ہے ، تاہم واجب الادا ادائیگیوں میں تاخیر نے نہ صرف جاری منصوبوں کی رفتار کم کر دی بلکہ مستقبل کے ترقیاتی اہداف بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں۔بعض منصوبے عرصہ دراز سے مختلف تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر لٹکے ہوئے ہیں جیسے سپورٹس کمپلیکسز بھی فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث نہیں بن سکے۔اسی طر ح سے دیگر منصوبے بھی لٹک گئے ہیں۔