30 سال سے زائد عمر کے درختوں کے ڈیٹا کی تیاری
وراثتی درختوں کو کسی بھی صورت میں بلاجواز نہیں کاٹا جا سکے گا:نئی پالیسی
لاہور (سٹاف رپورٹر سے ) شہر میں ماحولیاتی توازن کے تحفظ کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں بڑے اور قدیم درختوں کو محفوظ بنانے کے لیے نئی پالیسی متعارف کرا دی گئی ہے ۔ اس پالیسی کے تحت تیس سال سے زائد عمر کے درختوں کو وراثتی درخت کا درجہ دیا جائے گا، جبکہ ایسے درخت جن کا تنا چھتیس انچ یا اس سے زیادہ چوڑا ہو، انہیں بھی اسی زمرے میں شامل کیا جائے گا۔نئی پالیسی کے مطابق وراثتی درختوں کو کسی بھی صورت میں بلاجواز نہیں کاٹا جا سکے گا۔ صرف ایسی صورت میں اجازت ہو گی جب درخت بیماری کا شکار ہو یا عوامی تحفظ کے لیے خطرہ بن رہا ہو۔ درخت کی کٹائی کے لیے منظور شدہ ہارٹی کلچر ماہرین پر مشتمل تکنیکی کمیٹی سے باقاعدہ منظوری لینا لازم قرار دیا گیا ہے ، جبکہ کٹائی سے قبل درخت کی منتقلی کے تمام ممکنہ آپشنز کو لازمی طور پر زیرِ غور لایا جائے گا۔شہر بھر میں تیس سال سے زائد عمر کے درختوں کا مکمل ڈیٹا مرتب کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے ۔ یہ درجہ بندی کسی مخصوص علاقے تک محدود نہیں ہو گی بلکہ شہر کے کسی بھی حصے میں موجود اہل درخت کو وراثتی درخت قرار دیا جا سکے گا۔