لوڈشیڈنگ:500ٹیوب ویلز بغیر جنریٹرز:پانی کی قلت
پانی جیسی سہولت بھی بجلی کے رحم و کرم پر ، ٹیوب ویلز ایسے ہیں جن کے ساتھ جنریٹرز غائب، 200پرلگے جنریٹرز غیرفعال وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے دور میں جنریٹرز نصب کیے گئے ،مالی بحران کے باعث جنریٹرز کو فعال رکھنا ممکن نہیں رہا:واسا حکام
لاہور (شیخ زین العابدین)شہرِ لاہور میں بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ نے شہری زندگی مفلوج کر دی ہے ۔پانی جیسی بنیادی سہولت بھی اب بجلی کے رحم و کرم پر آ چکی ہے ،واسا کے ٹیوب ویلز بند، فلٹریشن پلانٹس غیر فعال، شہری بوند بوند کو ترسنے لگے ، شہر میں نصب تقریباً 300 ٹیوب ویلز ایسے ہیں جن کیساتھ جنریٹرز موجود ہی نہیں، جبکہ 200سے زائد ٹیوب ویلز پر لگے جنریٹرز بھی غیر فعال پڑے ہیں۔ذرائع کے مطابق شہرِ لاہور میں بجلی کے مسلسل شٹ ڈاؤن نے پانی کی فراہمی کا نظام بھی درہم برہم کر دیا ہے ۔ لوڈ شیڈنگ کے باعث واسا کے ٹیوب ویلز بند ہونے لگے ہیں جس کے نتیجے میں شہریوں کو گھنٹوں پانی سے محروم رہنا پڑ رہا ہے ۔ذرائع کے مطابق واسا کی جانب سے بجلی کی بندش کے دوران پانی کی سپلائی بھی معطل رکھی جا رہی ہے ، جبکہ متبادل نظام نہ ہونے کے باعث صورتحال مزید گھمبیر ہوتی جا رہی ہے ۔ شہر میں نصب تقریباً 300 ٹیوب ویلز ایسے ہیں جن کے ساتھ جنریٹرز موجود ہی نہیں، جبکہ 200 سے زائد ٹیوب ویلز پر لگے جنریٹرز بھی غیر فعال پڑے ہیں۔
دستاویزی معلومات کے مطابق کئی مقامات پر جنریٹرز نصب تو کیے گئے مگر ان کے باقاعدہ کنکشنز ہی نہیں کیے گئے ، جس کے باعث وہ استعمال کے قابل نہیں رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیوب ویلز کے اوقات کار پر بھی عملدرآمد ممکن نہیں ہو پا رہا، اور شہری آٹھ آٹھ گھنٹے تک پانی کی سپلائی سے محروم رہنے پر مجبور ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں شہباز شریف کے دور حکومت میں ٹیوب ویلز کے ساتھ جنریٹرز نصب کیے گئے تھے تاکہ ہنگامی حالات میں پانی کی فراہمی جاری رکھی جا سکے ، تاہم اب انہی جنریٹرز کو یا تو غیر فعال چھوڑ دیا گیا ہے یا دیگر مقاصد کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔واسا حکام کے مطابق مالی بحران کے باعث جنریٹرز کو فعال رکھنا ممکن نہیں رہا، جس کے باعث بجلی کی بندش کے دوران پانی کی فراہمی مکمل طور پر متاثر ہو رہی ہے ۔متاثرہ علاقوں میں گلبرگ کے جے بلاک، مکہ کالونی اور ماڈل کالونی سمیت ماڈل ٹاؤن ایکسٹینشن، اقبال ٹاؤن کے کریم بلاک اور ہما بلاک شامل ہیں جہاں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اسکے علاوہ مال روڈ، دیال سنگھ مینشن، ریگل چوک، نیلی بار چوک، اسلام پورہ اور کرشن نگر میں بھی پانی کی قلت معمول بنتی جا رہی ہے ۔شہر میں پانی کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے ،لوڈ شیڈنگ کیساتھ انتظامی کمزوریاں بھی کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔