پلاننگ ونگ فعال نہ ہونے پر229لوکل گورنمنٹس کو نقصان
سینکڑوں اسامیاں خالی ،رہائشی و کمرشل تعمیرات نہ ہونے سے کروڑوں کا خسارہ
لاہور (عمران اکبر )لاہور سمیت صوبہ بھر کے پلاننگ ونگ کی فعال نہ ہونے کی وجہ سامنے ا ٓگئی، 50 کمپیوٹر آپریٹرز ،38سروئیرز،78پٹواری اور 130 انسپکٹرز کی زائداسامیاں خالی ،پلاننگ ونگ فعال نہ ہونے سے 10بڑے شہروں سمیت اضلاع کی پلاننگ سٹرکچرز ،نقشے پاس نہ ہونے سے 229لوکل گورنمنٹس کورہائشی و کمرشل عمارات کی تعمیر نہ ہونے سے کروڑوں روپے کے خسارے کا انکشاف۔ ذرائع کے مطابق لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد ،گجرات،راولپنڈی ،ملتان، سیالکوٹ ،بہاولپور سمیت دیگر اضلاع کی اہم کمرشل شاہراہوں پررہائشی اور سینکڑوں سکیموں و انڈسٹریز کی نقشہ منظوری سینکڑوں اسامیاں خالی ہونے پر التوا کا شکار ہے ۔لاہور کے بلڈنگ انسپکٹرز کی 37میں سے 26اسامیاں خالی ہیں، 9زونل افسروں،11انسپکٹرز ، 3پٹواریوں اور کمپیوٹر آپریٹرز پر شہر کے بلڈنگ کنٹرولڈ کا اضافی بوجھ ڈال دیا گیا ۔ داتا گنج بخش زون کی پلاننگ ونگ کی 6اسامیاں خالی ہونے پر کمرشل و رہائشی تعمیرات کے نقشے التوا کا شکار،سمن آباد زون کے زونل آفیسر پلاننگ کا چارج اسسٹنٹ زونل آفیسر کے سپرد ،دو بلڈنگ انسپکٹر کی اسامیاں بھی خالی ،اقبال زون کے ایک اسسٹنٹ زونل افیسر اور دو بلڈنگ انسپکٹرز کی اسامیاں ،نشتر زون کے دو بلڈنگ انسپکٹرز کی اسامیاں ،واہگہ زون کے ایک بلڈنگ انسپکٹر کی اسامی ،عزیز بھٹی زون کے3 بلڈنگ انسپکٹرز ، شالامار زون کے دو بلڈنگ انسپکٹرز،راوی زون کے دو بلڈنگ انسپکٹرز اورگلبرگ زون کی 4 بلڈنگ انسپکٹرز کی اسامیاں خالی ہیں۔