خطرناک عمارتوں میں تعلیمی سرگرمیاں بند کرنے کا حکم

خطرناک  عمارتوں  میں  تعلیمی  سرگرمیاں  بند  کرنے  کا  حکم

تعمیراتی مقامات پر حفاظتی باڑ، وارننگ بورڈز اور مسلسل نگرانی لازمی قرار ،تعمیراتی سائٹ پر ایک استاد تعینات کیا جائیگا طلبہ کے تعمیراتی علاقوں میں داخلے پر مکمل پابندی ،سکولوں میں ارتھنگ اور محفوظ الیکٹرک وائرنگ یقینی بنائی جائے :مراسلہ

لاہور(خبر نگار)پنجاب بھر کے سرکاری سکولوں میں طلبہ کی حفاظت کے لیے محکمہ سکول ایجوکیشن نے اہم اقدامات کرتے ہوئے خطرناک اور جزوی خطرناک عمارتوں میں تعلیمی سرگرمیاں فوری بند کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔ محکمہ سکول ایجوکیشن کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق زیرِ تعمیر سکول حصوں کو مکمل طور پر کارڈن آف کیا جائے گا جبکہ تعمیراتی مقامات پر حفاظتی باڑ، وارننگ بورڈز اور مسلسل نگرانی لازمی قرار دی گئی ہے ۔مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ ہر تعمیراتی سائٹ پر ایک ذمہ دار استاد تعینات کیا جائے گا جبکہ طلبہ کے تعمیراتی علاقوں میں داخلے پر مکمل پابندی ہوگی۔محکمہ نے سکولوں میں بجلی کے نظام کو بھی محفوظ بنانے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ شارٹ سرکٹ سے بچاؤ کے لیے ایم سی بیز، فیوز اور برقی معائنہ لازمی ہوگا۔

واٹر پمپ اور الیکٹرک کولر صرف اساتذہ یا کلاس فور ملازمین ہی چلائیں گے۔ سکولوں میں ارتھنگ اور محفوظ الیکٹرک وائرنگ یقینی بنائی جائے ، کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔اساتذہ کو سکول شروع ہونے سے آدھا گھنٹہ پہلے پہنچنے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ وقفے کے دوران طلبہ کی مسلسل نگرانی اور چھٹی کے وقت تمام بچوں کی محفوظ واپسی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے ۔محکمہ سکول ایجوکیشن نے واضح کیا ہے کہ خطرناک عمارتوں میں کسی بھی غفلت کی صورت میں متعلقہ افسران اور سکول ہیڈز ذمہ دار ہوں گے ۔ پنجاب بھر میں خطرناک اور جزوی خطرناک سکول عمارتوں کو سیل کرنے کی ہدایات بھی جاری کردی گئی ہیں۔تعلیمی حلقوں کے مطابق حالیہ اقدامات کا مقصد سکولوں میں ممکنہ حادثات کی روک تھام اور طلبہ کو محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ کو بھی فوری عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کردی گئی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں