اہم شاہراہوں پر سکیموں و انڈسٹریز کی نقشہ منظوری التوا کا شکار
فنڈز جاری نہ ہو سکے ،مال روڈ کی 104 تاریخی عمارتوں کی بحالی کا منصوبہ لٹک گیا
لاہور(عمران اکبر )لاہور سمیت صوبہ بھر کے پلاننگ ونگ کی اصلاحات کی تجاویز 26/27 بجٹ میں نہ رکھی گئیں ، لاہور،گوجرانوالہ،فیصل آباد ،گجرات،راولپنڈی ،ملتان،سیالکوٹ ،بہاولپور سمیت دیگر اضلاع کی کمرشل اہم شاہراہوں پررہائشی اور سینکڑوں سکیموں و انڈسٹریل کی نقشہ منظوری التوا کا شکار ہیں ،افسران ،انسپکٹرز، پٹواری، سرویئر، کمپیوٹر آپریٹر اور عملہ نہ ہونے کے برابر ہے ،لاہور کے بلڈنگ انسپکٹرز کی 37میں سے 26 اسامیاں خالی ہیں۔ دریں اثنا مال روڈ کی 104 تاریخی عمارتوں کی بحالی کا منصوبہ لٹک گیا، 1 ارب کے فنڈز جاری نہ ہو سکے ۔پی ایم جی چوک سے چیئرنگ کراس تک عمارتوں کی تزئین و آرائش کے 80 کروڑ اور سڑک کی مرمت کے 20 کروڑ التوا کا شکار ہے ۔ مال روڈ پر واقع برطانوی عہد کی تاریخی عمارتوں کی تزئین و آرائش کا معاملہ لٹک گیا ،مالی سال ختم ہونے میں دو ماہ رہ گئے ،ایک ارب روپے کی خطیر رقم کی ایک پائی بھی جاری نہ ہو سکی ، 80کروڑ کے فنڈز سے عمارتوں کو لش پش کیا جانا تھا جبکہ 20کروڑ سے مال روڈ کو مکمل تیار کیا جانا تھا۔