خاطر خواہ فنڈز مختص نہ ہو ئے ،اہم منصوبے متاثر ہونیکاخدشہ

خاطر خواہ فنڈز مختص نہ ہو ئے ،اہم منصوبے متاثر ہونیکاخدشہ

ملٹی ماڈل ٹرانسپورٹ ٹرمینل منصوبہ بھی محدود وسائل کی فہرست میں شامل

لاہور (سٹاف رپورٹر سے )مالی سال 2026-27 کے بجٹ خدوخال میں لاہور کے ٹرانسپورٹ سیکٹر کو ایسے وقت میں محدود مالی گنجائش دی گئی ہے جب شہر کو بڑھتے ٹریفک دباؤ اور سفری مسائل کے باعث بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے ۔ پنجاب حکومت کی جانب سے نئی سکیموں کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص نہ کیے جانے سے متعدد اہم منصوبوں کی رفتار متاثر ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے ۔لاہور میں ماس ٹرانزٹ سسٹم کو مزید وسعت دینے اور مختلف سفری نظاموں کو آپس میں مربوط کرنے کے منصوبے بجٹ ترجیحات میں نمایاں جگہ حاصل نہ کر سکے ۔ شہر میں جدید ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کے قیام کے لیے تیار کیے جانے والے منصوبوں کے لیے ابتدائی نوعیت کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔بجٹ دستاویزات کے مطابق کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر ٹرانسپورٹ ٹاور کی تعمیر کے لیے مجموعی طور پر 9 ارب 42 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے ، تاہم آئندہ مالی سال کے لیے اس منصوبے کو صرف 20 کروڑ روپے دیے گئے ہیں۔اسی طرح لاہور میں مختلف ماس ٹرانزٹ سسٹمز کے باہمی رابطے اور مربوط سفری نظام کے قیام کے لیے فزیبلٹی سٹڈی کا تخمینہ 30 کروڑ روپے رکھا گیا، لیکن مالی سال 2026-27 میں اس مقصد کے لیے صرف 50 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ملٹی ماڈل ٹرانسپورٹ ٹرمینل منصوبہ بھی محدود مالی وسائل کی فہرست میں شامل ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں