صوبائی پبلک سیفٹی کمیشن کے قیام بارے تجویز پیش کرنیکی ہدایت

 صوبائی پبلک سیفٹی کمیشن کے قیام بارے تجویز پیش کرنیکی ہدایت

سیفٹی کمیشن کے قیام میں کوئی آئینی یا قانونی رکاوٹ موجود نہیں : اسامہ خاور گھمن

لاہور(حمزہ خورشید سے )پنجاب اسمبلی کی لا ریفارمز کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کی کارروائی کے مطابق کمیٹی نے محکمہ داخلہ کو پولیس کمپلینٹس کمیشن اور صوبائی پبلک سیفٹی کمیشن کے قیام سے متعلق تجویز پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔ اجلاس میں پولیس احتسابی نظام اور پولیس آرڈر 2002 کے تحت صوبائی و ضلعی پبلک سیفٹی اور پولیس کمپلینٹس کمیشنز کے قیام کا معاملہ زیر غور آیا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا کہ پولیس آرڈر نافذ ہونے کے بعد سے یہ کمیشنز تاحال تشکیل نہیں دیے جا سکے ، جبکہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹس، عوامی شکایات اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق فورمز کے مشاہدات کے تناظر میں ان کمیشنز کی تشکیل ناگزیر ہے ۔

رکن اسمبلی ذوالفقار علی شاہ اور امجد علی جاوید نے پولیس کے مؤثر احتسابی نظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کمیشنز کی تشکیل میں تاخیر پاکستان کی شفافیت، قانون کی حکمرانی اور جی ایس پی پلس سے متعلق ساکھ کو متاثر کر رہی ہے ۔ سپیکر کے مشیر اسامہ خاور گھمن نے کمیٹی کو بتایا کہ صوبائی پبلک سیفٹی کمیشن کے قیام میں کوئی آئینی یا قانونی رکاوٹ موجود نہیں اور طریقہ کار سے متعلق ضروری ترامیم بھی تیار کی جا سکتی ہیں۔ سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے آگاہ کیا کہ چھ ارکان کے انتخاب کے لیے سلیکشن پینل بنانے کی سمری شروع کر دی گئی ہے جبکہ باقی چھ ارکان کے نام سپیکر آفس کے ذریعے نامزد کیے جائیں گے ، انہوں نے کمیٹی کو باقاعدہ پیش رفت رپورٹس فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...