نان سیلری بجٹ اور فروغِ تعلیم فنڈ میں اضافہ نہ ہوسکا

نان سیلری بجٹ اور فروغِ تعلیم فنڈ میں اضافہ نہ ہوسکا

فنڈز میں اضافہ نہ ہونے سے سکول سربراہان کو مالی مشکلات کا سامنا

لاہور (خبر نگار) سرکاری سکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ روزمرہ اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہونے لگا۔ مہنگائی بڑھتی گئی، سکولوں کے اخراجات میں اضافہ ہوتا گیا، لیکن نان سیلری بجٹ اور فروغِ تعلیم فنڈ میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہو سکا۔سرکاری سکولوں میں زیرتعلیم ہر بچے سے فروغِ تعلیم فنڈ کی مد میں 20 روپے وصول کیے جاتے ہیں۔ اساتذہ کے مطابق یہ رقم سال 2006 سے فی طال علم 20 روپے ہی ہے، جبکہ گزشتہ برسوں کے دوران مہنگائی میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ سکولوں کے بجلی، صفائی، معمولی مرمت اور دیگر روزمرہ اخراجات بڑھنے کے باوجود دستیاب فنڈز میں اضافہ نہ ہونے سے سکول سربراہان کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ موجودہ مہنگائی میں 20 روپے فی بچہ فروغِ تعلیم فنڈ انتہائی کم ہے۔ سکولوں کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اس فنڈ کی شرح پر نظرثانی کی ضرورت ہے ۔اساتذہ نے مطالبہ کیا ہے کہ فروغِ تعلیم فنڈ کم از کم 50 سے 100 روپے فی طالبعلم کیا جائے۔ 2006 میں جب 20 روپے مقرر کیے گئے تھے، اس وقت کے اخراجات اور آج کے اخراجات میں بہت فرق ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...