شاہ جمال میں ریڑھی بانوں کے لاؤڈ سپیکر شہریوں کیلئے عذاب

شاہ جمال میں ریڑھی بانوں کے لاؤڈ سپیکر شہریوں کیلئے عذاب

مسلسل شور سے طلبہ‘مریض اور بزرگ متاثر، ڈی پی او سے نوٹس کا مطالبہ

مونڈکا (نامہ نگار) شاہ جمال کے مختلف علاقوں میں ریڑھی بانوں کی جانب سے لاؤڈ سپیکر کے بے جا اور مسلسل استعمال نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے ۔ بلند آواز میں کیے جانے والے اعلانات کے باعث نہ صرف عام شہری بلکہ طلبہ، مریض اور بزرگ افراد شدید ذہنی کوفت اور پریشانی کا شکار ہیں۔مقامی مکینوں کا کہنا ہے کہ دن بھر جاری رہنے والے لاؤڈ سپیکر کے شور کی وجہ سے گھروں میں سکون نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ تعلیمی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں جبکہ امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ شہریوں کے مطابق بیمار افراد اور بزرگ شہریوں کے لیے اس ماحول میں رہنا انتہائی اذیت ناک ہو چکا ہے ۔علاقہ مکینوں نے بتایا کہ متعدد بار ریڑھی بانوں کو زبانی طور پر لاؤڈ سپیکر بند کرنے کا کہا گیا، تاہم وہ اپنی روش تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے مگر متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی نظر نہیں آ رہی۔سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ریڑھی بانوں کی جانب سے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال قوانینِ شور کی کھلی خلاف ورزی ہے ، جس پر قابو پانا ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی ذمہ داری ہے ۔ شہریوں نے انتظامیہ اور مقامی پولیس پر عدم توجہ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی خاموشی کے باعث شور شرابہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے ۔عوامی و سماجی حلقوں نے ڈی پی او مظفرگڑھ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیا جائے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں