بستی شیخاں میں پیرافورس آپریشن‘ درجنوں خاندان بے گھر

بستی شیخاں میں پیرافورس آپریشن‘ درجنوں خاندان بے گھر

سخت سردی میں عورتیں،بچے ،بزرگ ماہی گیر کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبورننگے پاؤں بچے ، ماؤں کا کرب اور بے گھر مویشی ،بستی میں دردناک مناظر

کوٹ ادو (ڈسٹرکٹ رپورٹر) تونسہ بیراج کے قریب بستی شیخاں میں پیرافورس کی جانب سے کارروائی کے بعد درجنوں ماہی گیر خاندان بے گھر ہو گئے ۔ گھروں کی مسماری کے باعث عورتیں، بچے اور بزرگ شدید سردی میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ مویشی بھی بے سہارا ہو گئے ہیں۔تفصیل کے مطابق بستی شیخاں دریائے سندھ کے کنارے 1958میں تونسہ بیراج کی تعمیر کے وقت سے آباد ایک قدیمی ماہی گیر بستی ہے ، جہاں اس وقت 1500سے زائد خاندان رہائش پذیر ہیں اور مجموعی آبادی 16ہزار سے تجاوز کر چکی ہے ۔ چھ روز قبل پیرافورس نے آپریشن کرتے ہوئے متعدد کچے مکانات مسمار کر دئیے جس سے غریب اور بے زمین ماہی گیر خاندان بے گھر ہو گئے ۔متاثرہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کوئی متبادل رہائش ہے اور نہ ہی بنیادی سہولتیں۔ شدید سردی، ننگے پاؤں بچے ، ماؤں کا کرب اور بے گھر مویشی بستی میں دردناک مناظر پیش کر رہے ہیں۔ واقعہ پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا اور مزدور ایکشن کمیٹی کوٹ ادو اور پیپلز لیبر بیورو کے اشتراک سے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دیا گیا۔مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے سماجی رہنما خادم حسین کھر نے کہا کہ نسلوں سے آباد ماہی گیر آبادی کو بغیر متبادل انتظام بے دخل کرنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔ دریں اثنا رکن صوبائی اسمبلی میاں احسن علی قریشی نے بھی متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کیا اور مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری متبادل رہائش، مالی امداد اور بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ مظاہرین نے اعلان کیا کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں