سرکاری جنگلات غیر قانونی کٹائی سے تباہی کے دہانے پر
مونڈکا (نامہ نگار)شاہ جمال اور اس کے گرد و نواح میں واقع سرکاری جنگلات شدید خطرات سے دوچار ہو گئے ہیں۔
باوثوق ذرائع کے مطابق ہیڈ 76 احمد موہانہ، سرکاری بیٹ میتلا اور بیٹ چین والا کے جنگلات سے روزانہ کی بنیاد پر بڑی تعداد میں قیمتی درخت غیر قانونی طور پر کاٹے اور چوری کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث یہ سرسبز علاقے تیزی سے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگلات کی حفاظت پر مامور گارڈز عوامی مفاد کے تحفظ کے بجائے مبینہ طور پر لاکھوں روپے کے غیر قانونی کاروبار میں مصروف دکھائی دیتے ہیں جس کے نتیجے میں حکومت پنجاب کا سرسبز پنجاب منصوبہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔
مقامی شہریوں اور سماجی حلقوں نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگلات کی کٹائی کا یہ سلسلہ نہ روکا گیا تو آنے والے وقت میں علاقے کو سنگین ماحولیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ درختوں کی بے دریغ کٹائی سے گرمی کی شدت میں اضافہ، گرد و غبار اور فضائی آلودگی بڑھ رہی ہے جبکہ موسمیاتی توازن بھی بگڑنے کا خدشہ ہے ۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد بار متعلقہ حکام کو اس سنگین مسئلے سے آگاہ کیا، مگر تاحال کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ شہریوں نے ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لیتے ہوئے غیر قانونی درختوں کی کٹائی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے ۔عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ محکمہ جنگلات میں جاری مبینہ بدعنوانی کا خاتمہ کر کے سرسبز پنجاب کے خواب کو حقیقت بنایا جائے ۔