رکشا ڈرائیوروں کی مبینہ ملی بھگت سے جیب تراش سرگرم
سوار خواتین اور عمر رسیدہ شہریوں کو لوٹنے کا انکشاف، فوری کارروائی کا مطالبہ
بورے والا (سٹی رپورٹر) شہر میں رکشا ڈرائیوروں کی مبینہ ملی بھگت سے جیب تراش گروہ سرگرم ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے جو رکشوں میں سوار خواتین اور عمر رسیدہ شہریوں کو لوٹنے میں مصروف ہے ۔ شہریوں کے مطابق جیب تراش مرد و خواتین رکشا ڈرائیوروں کے ساتھ ملی بھگت کے ذریعے وارداتیں کرتے ہیں اور دورانِ سفر پرس، موبائل فون، نقدی اور بعض اوقات زیورات تک چوری کر لیتے ہیں۔متعدد متاثرین کا کہنا ہے کہ بیشتر وارداتوں میں رکشا ڈرائیور مشکوک طور پر ملوث پائے گئے ، تاہم اس کے باوجود تاحال کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ ذرائع کے مطابق موبائل فون، نقدی اور زیورات چوری کے متعدد مقدمات درج ہونے کے باوجود تفتیش آگے نہ بڑھ سکی اور کئی کیسز سرد خانے کی نذر ہو چکے ہیں۔متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی عدم توجہی کے باعث وہ اپنی مدد آپ کے تحت نجی طور پر موبائل ٹریکرز لگوا کر فونز ٹریس کرانے پر مجبور ہیں۔
، جس سے نہ صرف مالی نقصان بڑھ رہا ہے بلکہ شہری عدم تحفظ کا شکار بھی ہیں۔ خواتین اور عمر رسیدہ افراد نے بتایا کہ وہ روزمرہ آمد و رفت کے دوران خوف محسوس کرتے ہیں۔متاثرین نے ڈی پی او وہاڑی تصور اقبال سے مطالبہ کیا ہے کہ بورے والا میں رکشہ مافیا اور جیب تراش گروہ کے گٹھ جوڑ کا فوری نوٹس لیا جائے اور رکشوں میں سوار ہو کر وارداتیں کرنے والے عناصر کے خلاف سخت اور مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ شہری خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔