نیٹ میٹرنگ پر پابندی،پاور لومز انڈسٹری تباہی کے دہانے پر
سولر پالیسی پر فوری نظرثانی نہ ہوئی توناقابل تلافی نقصان ہوگا، عبدالخالق قندیل
ملتان (لیڈی رپورٹر) آل پاکستان پاور لومز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر عبدالخالق قندیل انصاری نے کہا ہے کہ پاور ڈویژن کی سولرائزیشن اور نیٹ میٹرنگ پالیسی نے پاور لومز انڈسٹری کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے ۔ انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاور ڈویژن میں عملاً نئے نیٹ میٹرنگ کنکشنوں پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ پہلے سے نصب نیٹ میٹرنگ کنکشنوں، بالخصوص پاور لومز انڈسٹری کے چھوٹے صنعتی اور ایکسپورٹ یونٹس کو بلنگ میں شامل نہیں کیا جا رہا جو نیٹ میٹرنگ پالیسی کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ اس اقدام سے چھوٹی صنعتوں اور ایس ایم ای سیکٹر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے ۔رہنماؤں نے کہا کہ نئی پالیسی کے تحت نیٹ میٹرنگ لوڈ بڑھانے پر پابندی لگا کر لاکھوں روپے کے سولر سسٹمز کو بیکار بنا دیا گیا ہے ۔ بجلی اور دھاگہ مہنگا ہونے سے پیداواری لاگت میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے جبکہ حکومتی پالیسیوں کے باعث ملک بھر میں بیس ہزار کے قریب پاور لومز بند ہو چکے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سولر نیٹ میٹرنگ کی موجودہ پالیسی برقرار رہی تو پاور لومز انڈسٹری مکمل طور پر بند ہو جائے گی، جس سے نہ صرف ایکسپورٹ بلکہ لوکل مارکیٹ بھی شدید متاثر ہوگی۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف، وزیر توانائی اور میپکو حکام سے مطالبہ کیا کہ نیٹ میٹرنگ پر پابندیاں ختم کر کے پاور لومز انڈسٹری کو مراعات اور بلا سود قرض فراہم کیے جائیں تاکہ روزگار اور برآمدات کو بچایا جا سکے ۔