تعلیمی بورڈز میں امتحانی نظام کی تاریخی اصلاحات منظور

تعلیمی بورڈز میں امتحانی نظام کی تاریخی اصلاحات منظور

ملتان (خصوصی رپورٹر) ملتان سمیت صوبے کے تمام نو تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز پر مشتمل بورڈ کمیٹی آف چیئرمینز نے امتحانی نظام میں بڑی اور تاریخی اصلاحات کی منظوری دے دی ہے ،

جس کے تحت میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات میں روایتی نگرانی اور پرچہ جانچنے کا نظام ختم کر دیا گیا ہے ۔ نئی اصلاحات کا مقصد امتحانی عمل میں شفافیت، درست جانچ اور نقل و بدعنوانی کا خاتمہ ہے ۔منظور شدہ فریم ورک کے مطابق امتحانات میں شریک تمام طلبہ و طالبات کے لئے بائیومیٹرک حاضری لازمی قرار دی گئی ہے ۔ سال 2026 سے جماعت نہم اور جماعت گیارہ میں رجسٹریشن کروانے والے طلبہ کو انگوٹھوں کے نشانات فراہم کرنا ہوں گے ، جو امتحانی مراکز میں داخلے اور شناخت کی تصدیق کے لئے استعمال ہوں گے ۔ حکام کے مطابق بائیومیٹرک نظام سے جعلی اور ڈمی امیدواروں کے خاتمے میں مدد ملے گی۔فیصلے کے تحت سرکاری و نجی تعلیمی ادارے بائیومیٹرک انتظامات کے ذمہ دار ہوں گے ،

جن میں بائیومیٹرک ڈیوائسز اور لیپ ٹاپس کی فراہمی شامل ہے ، جبکہ امتحانی بورڈز صرف متعلقہ سافٹ ویئر فراہم کریں گے ۔ اس سے اداروں کی ذمہ داری مزید بڑھ جائے گی۔کمیٹی نے پرچوں کی جانچ کے نظام میں بھی انقلابی تبدیلی کی منظوری دی ہے ، جس کے تحت مکمل ڈیجیٹل پیپر مارکنگ نافذ کی جائے گی۔ جوابی کاپیاں سکین کر کے کمپیوٹر سکرین پر چیک کی جائیں گی، جس سے نمبروں کی غلطیوں اور جانبداری کے امکانات کم ہوں گے ۔اس کے علاوہ سائنس کے عملی امتحانات کو بھی مؤثر اور باقاعدہ جانچ کے تحت لیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق رواں سال اصلاحات پر جزوی عملدرآمد ہوگا، جبکہ تمام امتحانی مراکز میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب بھی لازمی قرار دی گئی ہے ۔ ملتان بورڈ حکام کے مطابق ضلع بھر میں 400 امتحانی مراکز میں اس حوالے سے کام جاری ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں