گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ، شہری پریشان

گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ، شہری  پریشان

محکمہ کو درخواستوں کے باوجود گیس فراہم نہ کی جاسکی ،گیس کی مجموعی قلت، لائنوں میں دباؤ، تکنیکی وجوہات کے باعث شیڈول کے مطابق گیس فراہم نہیں کرپارہے ، حکام

 ملتان (خصوصی رپورٹر)موسم بدل گیا مگر سوئی گیس کی لوڈ شیڈنگ کم نہ ہو سکی، شہریوں کی پریشانی برقرار ہے بتایا گیا ہے کہ شہر میں موسم میں واضح تبدیلی کے باوجود سوئی گیس کی لوڈ شیڈنگ میں کمی نہ آ سکی، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ سردی کی شدت میں کمی کے بعد عوام کو امید تھی کہ گیس کی فراہمی بہتر ہو جائے گی، تاہم عملی طور پر صورتِ حال جوں کی توں برقرار ہے شہر کے مختلف علاقوں میں صبح اور شام کے اوقات میں گیس کی بندش معمول بن چکی ہے ۔ گھریلو صارفین خصوصاً خواتین خانہ شدید پریشان ہیں، جن کے لئے کھانا پکانا ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے ۔ گیس کی عدم دستیابی کے باعث شہری بازاروں اور ہوٹلوں سے کھانا خریدنے پر مجبور ہو گئے ہیں، جس سے گھریلو بجٹ پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی نے کمر توڑ رکھی ہے ، ایسے میں باہر سے کھانا خریدنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لئے یہ صورتحال مزید اذیت ناک ہو چکی ہے ۔

کئی علاقوں میں لوگ لکڑی، ایل پی جی سلنڈر یا الیکٹرک چولہوں کا سہارا لینے پر مجبور ہیں، جو نہ صرف مہنگے ہیں بلکہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے باعث وہ بھی مؤثر ثابت نہیں ہو رہے ۔علاقہ مکینوں نے شکایت کی ہے کہ سوئی گیس حکام کو بارہا آگاہ کرنے کے باوجود مسئلے کا مستقل حل نہیں نکالا جا سکا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سردیوں میں گیس کی قلت کا جواز سمجھ میں آتا ہے ، تاہم موسم معتدل ہونے کے باوجود لوڈ شیڈنگ کا جاری رہنا ناقابلِ فہم ہے ۔دوسری جانب سوئی گیس حکام کا مؤقف ہے کہ گیس کی مجموعی قلت، لائنوں میں دباؤ اور تکنیکی وجوہات کے باعث شیڈول کے مطابق گیس کی فراہمی کی جا رہی ہے ، تاہم شہریوں کا مطالبہ ہے کہ کم از کم کھانا پکانے کے اوقات میں بلا تعطل گیس فراہم کی جائے ۔شہریوں نے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس لوڈ شیڈنگ کے مسئلے کا فوری اور مستقل حل نکالا جائے تاکہ عوام کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں