اڑھائی لاکھ بجلی چور پکڑے گئے
زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت رواں مالی سال کے دوران کارروائیاں،6 ہزار 254 مقدمات ، مجموعی طور پر دو ارب 33 کروڑ روپے جرمانہ،ڈیڑھ کروڑ روپے جرمانہ موقع پر وصولصرف جنوری میں ایک ہزار 327 گرفتار یاں، لائن لاسز اور قومی خزانے کے نقصان میں کمی، نظام کو مستحکم اور شفاف بنانے کے لئے آپریشنز کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا ،میپکو حکام
ملتان(شاہدلودھی سے )ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) کی جانب سے بجلی چوری کے خلاف جاری خصوصی مہم کے مثبت اور حوصلہ افزا نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جس کے باعث نہ صرف بجلی چوری کی وارداتوں میں نمایاں کمی آئی ہے بلکہ جرمانوں کی وصولی اور قانونی کارروائی میں بھی واضح بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے ،موجودہ مالی سال کے دوران میپکو نے مؤثر نگرانی، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور فیلڈ ٹیموں کی مسلسل کارروائیوں کے ذریعے اب تک دو لاکھ 51 ہزار سے زائد کنکشنز پر بجلی چوری پکڑی ہے ، جن کے خلاف 6 ہزار 254 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں، جبکہ بجلی چوروں پر مجموعی طور پر دو ارب 33 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ عائد کیا گیا ہے ۔نئے سال 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی میپکو نے بجلی چوری کے خلاف کارروائیوں کو مزید تیز کر دیا ہے ۔ جنوری 2026 کے دوران کی گئی کارروائیوں کے مطابق ایک ہی مہینے میں ایک ہزار 327 بجلی چور پکڑے گئے ، جن میں سے 80 افراد کو موقع پر گرفتار کیا گیا،
جبکہ ایک ہزار 17 ملزمان کے خلاف مقدمات درج ہوئے ۔ اس دوران تقریباً 10 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا، جس میں سے ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد رقم موقع پر ہی وصول کر لی گئی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ادارے کی حکمت عملی اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو رہی ہے ۔اگر گزشتہ مالی سال 2024-25 کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال کہیں زیادہ سنگین دکھائی دیتی ہے ۔ اس دوران بجلی چوری کے تقریباً چھ لاکھ کیسز سامنے آئے ، 23 ہزار کے قریب ایف آئی آرز درج کی گئیں اور 44 ہزار سے زائد گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ بجلی چوروں پر آٹھ ارب 80 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ عائد کیا گیا، جس میں سے چھ ارب 54 کروڑ روپے کی ریکوری ممکن ہو سکی۔ اس کے مقابلے میں موجودہ مالی سال کے ابتدائی اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بجلی چوری کے واقعات میں بتدریج کمی آ رہی ہے ،
جبکہ جرمانوں کی بروقت وصولی کا تناسب بہتر ہوا ہے ۔میپکو کا بجلی کا ترسیلی ڈھانچہ 32 ہزار کلومیٹر سے زائد لائنوں پر مشتمل ہے ، جس کے تحت 786 گرڈ اسٹیشنز، 672 فیڈرز اور تقریباً ایک لاکھ نو ہزار ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمرز صارفین کو بجلی فراہم کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اسی وسیع نیٹ ورک میں مؤثر چیک اینڈ بیلنس، فیلڈ انسپکشن اور سخت قانونی کارروائیاں بجلی چوری میں کمی کا بنیادی سبب بن رہی ہیں۔توانائی کے ماہرین اور صارفین حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر میپکو اسی تسلسل کے ساتھ بجلی چوری کے خلاف کارروائیاں جاری رکھتی ہے تو نہ صرف لائن لاسز میں مزید کمی آئے گی بلکہ قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان میں بھی خاطر خواہ کمی ممکن ہو سکے گی۔ میپکو حکام کے مطابق بجلی چوری کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت آپریشنز کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ بجلی کے نظام کو مستحکم اور شفاف بنایا جا سکے ۔