وہاڑی ، گندم خریداری میں تاخیر، کسانوں کو شدید تحفظات
وہاڑی (نمائندہ خصوصی) کسان اتحاد پاکستان کے مرکزی سینئر رہنما نظام اللہ خان پاندہ اور ضلعی صدر عبدالغنی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت دو سال سے گندم کی فصل کو نظر انداز کر رہی ہے۔۔۔
اور اس سال بھی خریداری میں تاخیری حربے اختیار کیے جا رہے ہیں جس سے کسان شدید پریشانی کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے گندم خریداری پالیسی تاحال واضح نہیں کی گئی۔ جس کے باعث کسان غیر یقینی صورتحال میں مبتلا ہیں۔ ایک طرف کسان مہنگی کھاد، بیج اور دیگر زرعی اخراجات برداشت کر کے فصل تیار کرتا ہے جبکہ دوسری طرف اسے اپنی محنت کا مناسب معاوضہ نہیں مل رہا۔کسان اتحاد کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ ذخیرہ اندوز مافیا اور فلور ملز مالکان کے مبینہ گٹھ جوڑ کے باعث گندم کی قیمتوں میں اچانک کمی کی گئی ہے ۔ ان کے مطابق چند روز قبل گندم 3300 روپے فی من کے حساب سے خریدی جا رہی تھی جو اب کم ہو کر 2700 روپے فی من تک آ گئی ہے جو کسانوں کے ساتھ سراسر زیادتی ہے ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر گندم خریداری کا عمل شروع کیا جائے ، واضح اور شفاف پالیسی جاری کی جائے اور کسانوں کو مافیا کے استحصال سے بچایا جائے ۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسانوں کے مسائل حل نہ کیے گئے تو کسان اتحاد احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوگا اور اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔