لیڈی ہیلتھ ورکرز کا دھرنا، دو روزہ بائیکاٹ کا اعلان
احتجاج کے دوران سڑک کھولنے کے مطالبہ پر شہری سے تلخ کلامی، ہاتھا پائی
ملتان (لیڈی رپورٹر)ملتان میں لیڈی ہیلتھ ورکرز اور سپروائزرز نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی دھرنا دیا اور حکام کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ رجسٹریشن کا عمل مکمل کر چکی ہیں، اس کے باوجود شدید گرمی میں دوبارہ رجسٹریشن کے لئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے ۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مطابق انہیں اضافی ذمہ داریاں دی جاتی ہیں مگر مکمل تنخواہ ادا نہیں کی جاتی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ جتنا کام لیا جاتا ہے اسی تناسب سے معاوضہ بھی دیا جائے ۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے کہا کہ رجسٹریشن مکمل ہونے کے باوجود انہیں غیر ضروری طور پر تنگ کیا جا رہا ہے ۔بعد ازاں ضلعی انتظامیہ نے مذاکرات کے بعد مطالبات کے حل کے لئے دو دن کی مہلت طلب کر لی۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں دو روز تک کام کا بائیکاٹ جاری رکھا جائے گا۔دھرنے کے دوران اس وقت کشیدگی پیدا ہو گئی جب ایک موٹر سائیکل سوار شہری، جس کے ساتھ ایک بچہ بھی سوار تھا، نے سڑک کھولنے کا مطالبہ کیا۔ اس پر مظاہرین اور شہری کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جو بعد میں ہاتھا پائی میں تبدیل ہو گئی۔واقعے میں شہری اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کے درمیان جھگڑا ہوا جبکہ موٹر سائیکل پر موجود بچہ روتا رہا۔ واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو گئیں۔