عدالت نے اراضی تنازع پر حکم امتناعی جاری کر دیا
میلسی (نامہ نگار)سول جج فرسٹ کلاس و ایڈمنسٹریٹو جج میلسی صداقت علی خان نے اراضی تنازع کے مقدمہ میں مدعیان کی جانب سے دائر حکم امتناعی کی درخواست منظور کرتے ہوئے مدعا علیہان کو متنازعہ اراضی میں کسی قسم کی مداخلت یا مزید قبضے سے روک دیا۔ عدالت نے حکم امتناعی دو جولائی تک برقرار رکھتے ہوئے آئندہ سماعت کے لیے فریقین کو طلب کر لیا۔۔۔۔
عدالت میں قاضی ایاز الدین ولد قاضی غیاث الدین، محمد وسیم فاروقی، مغیث الدین اور نوشابہ ایاز کی جانب سے ان کے وکیل میاں شاہد حسین مترو ایڈوکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ مشترکہ کھیوٹ نمبر 509، کھتونی نمبر 615 میں مدعیان کا پانچ کنال 16 مرلے 97 سرسائی حصہ موجود ہے جس کے بعض حصوں پر ان کی تعمیرات بھی قائم ہیں۔ درخواست میں کہا گیا کہ اراضی کی باقاعدہ حدبراری ناگزیر ہو چکی ہے کیونکہ فریق مخالف محمد ندیم ولد منگت علی اور شازیہ دختر منگت علی مبینہ طور پر استحقاق سے زائد رقبے پر قابض ہیں اور مزید اراضی پر قبضے کی کوشش کر رہے ہیں۔مدعیان کے مطابق فریق مخالف نے اراضی کی تقسیم اور حدبراری کرانے کی تجویز بھی مسترد کر دی، جس سے تنازع شدت اختیار کر گیا۔ عدالت نے پیش کردہ دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد مدعا علیہان کو دو جولائی تک متنازعہ اراضی میں کسی قسم کی مداخلت یا قبضے سے باز رہنے کا حکم جاری کر دیا۔دوسری جانب محمد ندیم اور شازیہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اراضی کی حدبراری کرا لی جائے ، اگر حدبراری کے دوران ان کا ایک انچ قبضہ بھی زائد ثابت ہوا تو وہ فوری طور پر چھوڑ دیں گے ۔