استاد ،شاگرد کے تعزیے زیارت کیلئے رکھ دیئے گئے
دونوں تعزیے 1835سے برآمد کئے جارہے ، 116جلوس برآمد کئے جاچکے
ملتان (نعمان خان بابر سے )استاد اور شاگرد کے تعزیوں کو یوم عاشور پر برآمد کیا جاتا ہے برصغیر پاک و ہند کے دونوں تعزیوں کی صدیوں پر محیط تاریخی اہمیت ہے جن کو زیارت کے لئے رکھ دیا گیا ہے تفصیل کے مطابق ملتان میں یوم عاشور پر تعزیے کے ایک سو سولہ جلوس برآمد ہوتے ہیں تاہم استاد اور شاگرد کے تاریخی تعزیوں کا نقش ونگار، حسن و جمال اور نفاست میں کوئی ثانی نہیں اور دونوں تعزیوں کے جلوس یوم عاشور پر پاک گیٹ سے برآمد ہوتے ہیں جن کو حرم گیٹ چوک پہنچنے پر باقی تعزیے سلامی دیتے ہیں۔استاد پیر بخش کے تعزیے کا وزن ستر من جبکہ شاگرد مقمع الدین کے سات منزلہ تعزیے کا وزن ایک سو پچیس من ہے اور دونوں تعزیوں کی عزاداری کا سلسلہ سن اٹھارہ سو پینتیس سے شروع ہوا جس میں شریک عزاداروں کی سکیورٹی کے لئے بھی ہر سال خصوصی انتظامات کئے جاتے ہیں۔یوم عاشور پر استاد کا تعزیہ اپنے روایتی راستے حرم گیٹ چوک سے ہوتا ہوا امام بارگاہ شاہ ر سال اور شاگرد کا تعزیہ حرم گیٹ سے واپس پاک گیٹ میں ہی اختتام پذیر ہوتا ہے جبکہ باقی تعزیے کے جلوس حضرت شاہ شمس سبزاری کے مزار کے احاطے میں جسے کربلا سے تشبیہ دی جاتی ہے اختتام پذیر ہوں گے جس کے بعد شام غریباں بر پا کی کی جائے گی۔